قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 22 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 22

22 فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلْغُ الْمُبِينُ (المائدة:93) اور تم اللہ کی بھی اطاعت کرو اور اس رسول کی بھی اطاعت کرو اور ہوشیار رہو اور اگر تم پھر گئے تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ تو کھول کھول کر پہنچا دینا ہی ہے۔پھر فرماتا ہے:۔وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ وَالْأُمِّينَ وَ أَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلْخُ وَاللهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (ال عمران: 21) (اے پیغمبر) اور ان لوگوں کو جنہیں کتاب دی گئی ہے کہہ دے نیز امیوں کو بھی کہ کیا تم فرمانبردار ہوتے ہو۔پس اگر وہ فرمانبردار ہو جائیں تو سمجھو کہ وہ ہدایت پاگئے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرے ذمہ صرف پہنچادینا ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔مندرجہ بالا آیات اور اسی مضمون کی بہت سی دیگر آیات سے یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ رسول کا کام صرف یہی ہے کہ وہ خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچا دے اس کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کو اس کا پیغام قبول کرنے کے لئے مجبور کرے اور رسول کی امت اپنے نبی کے تابع ہوتی ہے۔پس اگر مجبور کرنا نبی کا کام نہیں تو اس کے اتباع کا کس طرح ہو سکتا ہے؟ یہ بھی یادر ہے کہ اس مضمون کی آیات صرف ملتی ہی نہیں بلکہ ان میں مدنی آیات بھی شامل ہیں۔پس جس طرح مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف حکم الہی کا پہنچا دینا تھا ایسا ہی مدینہ میں بھی اتنا ہی کام تھا اور زور کے ساتھ کسی کو داخل کرنا یا داخل ہونے کے بعد اس کو اسی دین میں رہنے پر مجبور کرنا آپ کا کبھی کام نہیں ہوا اور نہ اس کی کوئی مثال آپ کے متعلق ملتی ہے۔لیکن آج مسلمان کہلانے والے اسلام کے سب سے بڑے خیر خواہ یہ کہتے ہیں کہ اسلام نے لوگوں کو جبر مسلمان رکھنے اور بے دریغ قتل کر دینے کا حکم دیا ہے۔بہیں تفاوت راہ از کجاست تا یکجا۔