قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 234 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 234

234 نبوت کا دعویٰ کیا۔اور سب کی غرض دعوی نبوت سے صرف یہی تھی کہ حکومت حاصل ہو اور ملک عرب کے کسی نہ کسی حصہ پر ان کو قبضہ حاصل ہو جائے۔چنانچہ مدعیان نبوت میں سے ایک اسود عنسی تھا اس نے مرتد ہوتے ہی علم بغاوت کھڑا کیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو عاملین صدقات تھے ان کو صدقات واپس کرنے کا حکم دیا۔عمال ابھی تر ڈو میں تھے کہ قبائل مذحج و بخر ان کو لے کریمن کے مسلمان حاکم شہر بن باذان پر حملہ کر کے اس کو قتل کر دیا اور اس کی جورو سے جبر انکاح کر کے سارے ملک یمن کا حاکم بن بیٹھا۔اسود کی بغاوت کی خبر سُن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وبر بن يُحنس کے ہاتھ حضرت معاذ بن جبل اور اس کے ساتھی مسلمانوں کو خط بھیجا کہ اسود عنسی کا مقابلہ کرو۔چنانچہ شہر بن باذان کی بیوی کی مدد سے اسود عنسی کو اس کی خوابگاہ میں قتل کیا گیا۔اور اس کے قتل کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ایک دن اور ایک رات بعد مدینہ میں پہنچی۔اسی طرح نبوت کا دعوی کرنے والوں میں سجاح بنت حارث بن سوید ایک نصرانیہ عورت بھی تھی۔وہ بھی دعوی نبوت کرتے ہی ایک بڑی فوج ساتھ لے کر مدینہ پر چڑھ آئی۔راستہ میں اس کو خبر ملی کہ مسیلمہ نے بھی نبوت کا دعوی کیا ہے اس لئے بعد مشورہ یہ رائے ٹھہری کہ مدینہ پر حملہ کرنے سے پہلے مسیلمہ کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔چنانچہ اس نے یمامہ کی طرف رخ کیا۔یہاں اس نے مسیلمہ سے اتحاد کر لیا۔اور یہ تجویز ٹھہری کہ مسیلمہ اور سجاح کی فوجوں کے ذریعہ کل عرب فتح کیا جائے۔اس کے بعد خالد نے سجاح کو شکست دی اور سجاح بھاگ کر جزیرہ میں بنی تغلب کے پاس جا چھپی۔اسی طرح اہل عمان میں سے ایک شخص لقط بن مالک از دی نے مرتد ہو کر دعوای نبوت کیا۔اور نبوت کا دعوی کرتے ہی جمعیت اکٹھی کر کے علاقہ عمان پر حاکم ومتصرف بن بیٹھا اور وہاں کے اصلی عمال جیفیر اور عبادکو نکال دیا۔تاریخ طبری جلد ۴ صفحہ ۱۹۷۷۔ابن خلدون جلد ۲ صفحہ ۷۸ و تاریخ الکامل جلد ۲ صفحه ۱۵۶)