قتل مرتد اور اسلام — Page 223
223 میں پوچھتا ہوں کہ اگر وہ ارتداد جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قبائل عرب میں نمودار ہوا بالکل ایک بے ضرر تحریک تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے روانگی سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر کے پاس بھیجا اور مع لشکر واپس آنے کی اجازت مانگی اور وجہ پیش کی کہ ان معى وجوه الناس وجلتهم ولا امن على خليفة رسول الله وحرم رسول الله والمسلمين ان يتخطفهم المشركون۔یعنی میرے ساتھ بڑے بڑے آدمی ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مشرکین خلیفہ وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم محترم اور دوسرے مسلمانوں پر حملہ نہ کر دیں۔میرے خیال میں حامیان قتل مرتد کو اس امر کے یقین دلانے کا کہ وہ مرتدین کی جماعت جن کے خلاف حضرت ابو بکڑ نے قتال کیا ایک بے ضرر جماعت نہ تھی۔سہل ترین طریق یہ ہے کہ ان مرتدین کے حالات میں سے کچھ صفحہ تاریخ سے نقل کر کے اُن کی خدمت میں پیش کیا جائے تا ان کو معلوم ہو کہ یہ لوگ بے ضرر بڑے نہ تھے جیسا مولوی صاحبان نے اپنی سادگی سے سمجھ رکھا ہے بلکہ وہ خونخوار بھیڑیے اور وحشی درندے تھے اور اگر اُن کے خلاف حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تلوار اٹھائی تو اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام میں محض ارتداد اور تنہا ارتداد کی سزا قتل ہے۔(۱) جیسا کہ خوف کیا گیا تھا۔لشکر اُسامہ کی روانگی کے بعد مدینہ کے قرب و جوار کے مرتدین نے مدینہ پر حملہ کیا اور کئی دن تک محاصرہ کئے ہوئے پڑے رہے۔حضرت ابوبکر نے انہی تھوڑے سے آدمیوں کو جوشکر اُسامہ سے بیچ رہے تھے ساتھ لے کر محاصرین پر حملہ کر کے ان کو منتشر کیا۔طبری میں لکھا ہے:۔و كان اول من صادم عبس و ذبيان عاجلوه فقاتلهم قبل رجوع طبری جلد 4 صفحہ 1872) أسامة۔