قتل مرتد اور اسلام — Page 218
218 متفقہ فتوای سے ایسا ثابت نہ ہو تو پھر یہ بحث ہمارے علماء کے لئے چنداں مفید نہ ہو گی۔کیونکہ اگر بفرض محال وہ یہ ثابت بھی کر سکیں کہ کسی صحابی کا عمل اور قول قتل مرتد کی تائید میں ہے تو اس کا وہ قول یا فعل حجت نہیں سمجھا جائے گا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے متعلق دواوین حدیث وفقہ کا کیا فتوی ہے۔سو واضح ہو کہ اہلحدیث کے نزدیک صحابی کا قول یا فعل کوئی حجت نہیں۔جیسا کہ اصول حدیث کے ومہ بہ مختصر الجرجانی میں السیدالشریف الجرجانی نے تحریر فرمایا ہے۔”ماروى عن الصحابي من قول أو فعل متصلا كان او منقطعا ليس بحجة على الاصح۔اسی طرح امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قول یا فعل صحابی قطعا کوئی حجت نہیں۔کتاب کشف الاسرار شرح المنار جو اصول فقہ کی ایک مستند کتاب ہے اُس کی جلد 2 صفحہ 99 پر لکھا ہے۔وانما قلّدنا الانبياء عليهم السلام لانا عرفنا عصمتهم عن الكذب والخطأ بدلالة المعجزة فاتبعناهم لقيام دلالة العصمة وقد فقدت هذه الدلالة فى غيرهم فلا يجب اتباعهم ولهذا قال الشافعي لا نقلّد الصحابي لان قول الصحابي ليس بحجة اذ لوكان قوله حجة فدعا الناس الى قوله كالنبي عليه السلام یعنی ہم انبیاء علیہم السلام کی اس لئے تقلید کرتے ہیں کہ ہم نے اُن کے معجزات کے ذریعہ یہ پہچان لیا ہے کہ وہ کذب اور خطا سے محفوظ تھے۔پس ہم اُن کے معصوم ہونے کی وجہ سے اُن کی اتباع کرتے ہیں اور یہ بات دوسروں میں نہیں پائی جاتی۔پس اُن کا اتباع واجب نہیں اور یہی وجہ ہے کہ شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ہم صحابی کی تقلید نہیں کرتے کیونکہ صحابی کا قول حجت نہیں۔کیونکہ اگر صحابی کا قول حجت ہوتا تو وہ اپنے قول کی طرف