قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 140 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 140

140 کہ حافظ ابن القیم کا قول ان کے دعوی کی تائید کرتا ہے یا تردید؟ مجھے مولوی صاحب کی عقل پر رہ رہ کر تعجب آتا ہے کہ انہوں نے حافظ ابن القیم کی شہادت کو کیوں پیش کیا ؟ معلوم ہوتا ہے کہ باطل کی پیروی سے انسان کی عقل بالکل ساب ہو جاتی ہے۔آنکھوں پر پردہ پڑ جاتا ہے اور کان بو جھل ہو جاتے ہیں اور کچھ سمجھ نہیں آتا اور بڑے بڑے علم وفضل کا دعویٰ کرنے والے حق پرستوں کے مقابل میں بچوں سے بھی زیادہ نادان ہو جاتے ہیں اور ایسی بیوقوفی کی حرکات کرتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ایسے ہی لوگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّا جَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي أَذَانِهِمْ وَقُرًا (الكهف :58) کہ ہم نے ان لوگوں کے دلوں پر یقینا کئی پردے ڈال دیئے ہیں تا کہ وہ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دی ہے۔مولوی شبیر احمد صاحب نے حافظ ابن القیم کے قول کی نقل کر کے صرف اپنی ہی عقل کے پردوں کا ثبوت مہیا نہیں کیا۔بلکہ مولوی ظفر علی خان صاحب کی ایک بڑ کو بھی ساتھ ہی جھوٹا ثابت کیا ہے۔مولوی ظفر علی خان صاحب نے لکھا تھا:۔ابتدائے اسلام سے لے کر آج کے دن تک ایک شخص نے بھی اس بارے میں یعنی محض ارتداد کو موجب قتل قرار دینے میں ) اختلاف نہیں کیا۔لیکن مولوی شبیر احمد صاحب کے پیش کردہ حوالہ نے اس دعوی کو غلط ٹھہرایا اور ثابت کر دیا کہ اسلام میں ایسے لوگ گزرے ہیں جو اس بات کے قائل تھے کہ محض ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے اور وہ لوگ حافظ ابن القیم کے پایہ کے انسان تھے۔آیت لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ پر ایک اور جرح آیت لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کے متعلق ایک اور جرح یہ کی گئی ہے کہ اس آیت