قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 132 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 132

132 بن جائے تو آج دین میں ایک نظام اور شریعت قائم نہ رہے۔ایک بت پرست اپنے ہاتھ سے پتھر کی مورت تراشتا ہے۔پھر کیا اس بت پرست کی عقل رب المشرقین و المغر بین کے تسلیم و عدم تسلیم کا معیار بن سکتی ہے۔ایک چور اپنے ہمسایوں کے مال ومتاع کا احترام ملحوظ نہیں رکھتا۔۔۔پھر کیا حد سرقہ کے لئے اس چور کی نادرست عقل کسوٹی بن سکتی ہے۔غرض کہ اس قسم کی صد با مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جن کی بنا پر آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ حق و باطل کے پر کھنے والی عقل کی بھی خاص حدیں ہیں۔۔۔ایک ایسی عقل کی تلاش کرنی پڑے گی جس کے پیش نظر کا ئنات انسانیت کی فلاح و بہبود ہو۔جب بنی آدم کے امن و امان اور راحت و آسائش کی حفاظت کے فرائض کو پورے طور پر محسوس کرتی ہو اور فتنہ وفساد اور بغض وعداوت کی شرانگیزیوں کے سدِ باب میں انسانی دماغ۔انسانی ذہنیت اور انسانی جذبات وحیات سے تجاوز نہ کرتی ہو یعنی انسانوں کو انسان جھتی ہوایسی ہی عقل کی بناء پرقتل مرتد کے حکم کا اندازہ کرنا چاہئیے۔لیکن اس باب میں حکم بنے کیلئے اس عقل کا معیار کیونکر صحیح مانا جا سکتا ہے جو کائنات انسانیت تو ایک طرف رہی اس کے ایک ٹکڑے یعنی اہلِ ہند کے گزشتہ چار پانچ سال کے معاملات میں خود اپنے قول کے مطابق ہمالیہ جتنی بڑی غلطیاں کر چکی ہے۔مندرجہ بالا اقتباس میں مولوی صاحب نے مسٹر گاندھی کے آگے ایک ایسی شرط پیش کر دی ہے جس کو نہ وہ پورا کر سکیں گے اور نہ قتل مرتد کے مسئلہ کو معقولی رنگ میں درست ثابت کرنے کی نوبت آئے گی۔مولوی صاحب مسٹر گاندھی کو کہتے ہیں کہ اگر تم قتل مرتد کا معقولی ثبوت ہم سے چاہتے ہو تو جاؤ دنیا میں پھرو، اور روئے زمین کے مشرق و مغرب میں چکر لگاؤ اور کسی ایسی عقل کی تلاش کرو جو بنی آدم کی راحت و آسائش کے فرائض کو پورے طور پر محسوس کرتی ہو اور بغض و عداوت کی شرانگیزیوں کے سدباب میں انسانی دماغ۔انسانی ذہنیت اور انسانی جذبات و حیات سے تجاوز نہ کرتی ہو۔اور پھر اس میں یہ خوبی