قتل مرتد اور اسلام — Page 131
131 خرچ کر دینے کے بعد اس امر کو اپنی ساری طاقت سے بالا پایا کہ اس کو عقلی پہلو سے درست اور صحیح ثابت کر سکیں۔سو آخر کار تھک کر خود عقل کو ہی جواب دینے کی کوشش کی۔مولوی شاکر حسین صاحب سہسوانی ” شرعی احکام اور عقل“ کے عنوان کے ماتحت لکھتے ہیں:۔فاضل مضمون نگار کو استعجاب ہے کہ جب جبر کے ذریعہ سے کوئی مسلمان نہیں بنایا جاتا تو مسلمان رکھنے کیلئے جبر کا حکم کیونکر دیا جا سکتا ہے؟ مگر اس حقیقت واقعی کو کیا کیا جائے کہ اسلام کا صحیح اور نا فذ حکم یہی ہے اور اس میں کیونکر اور کیسے کی گنجائش نہیں۔اول تو اس حکم میں عقل سے کچھ استبعاد نہیں۔اگر ہو بھی تو لازمی نہیں ہے کہ جملہ احکام شریعت پر ہمارا فلسفی و منطقی استدلال منطبق ہو سکے۔یا ہم ان کی علت دریافت کرنے کا حق رکھتے ہوں۔“ مولوی ظفر علی خان صاحب اس امر کے تسلیم کرنے سے تو گریز نہیں کر سکے کہ اسلام حق و باطل کے پر کھنے کے لئے عقل کو ایک کسوٹی قرار دیتا ہے۔لیکن چونکہ وہ اپنے دل میں خوب سمجھتے تھے کہ وہ قتل مرتد کے مسئلہ کو عقل کی کسوٹی سے پر کھ کر صحیح ثابت نہیں کر سکتے۔اس لئے عقل کی بحث میں انہوں نے پوری کوشش کی ہے کہ اس معیار سے اس مسئلہ کو نہ جانچا جائے۔مسٹر گاندھی کے اس مطالبہ کے جواب میں کہ کسی اصول موضوعہ کو عالمگیر حیثیت سے تسلیم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اسے عقل کی حق و باطل کو پر کھنے والی کسوٹی پر کسا جائے۔مولوی صاحب لکھتے ہیں:۔اس اصول سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا اور تمام ادیان و شرائع میں اسلام سب سے پہلا مذہب ہے جس نے حق و باطل کے امتیاز کا یہ اصول پیش کیا اور اسی پر اپنی قبولیت وعدم قبولیت کا انحصار رکھا۔لیکن سوال یہ ہے کہ عقل کی حق و باطل کو پر کھنے والی کسوٹی کیا ہوگی۔۔۔اگر ہر فرد کی ممسوخ عقل ہر دین و شریعت اور ہر نظام و آئین کی صحت و عدم کی کسوٹی