قتل مرتد اور اسلام — Page 114
114 نے اپنے دعوی کی معقولیت ثابت کرنے کے لئے جو مثال دی ہے اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قاعدہ اسلام کے لئے خاص نہیں بلکہ سب مذاہب کے لئے عام ہے کیونکہ اگر وہ مثال درست ہے تو وہ صرف اسلام پر چسپاں نہیں ہوتی بلکہ تمام ادیان پر۔اس لئے مولوی شاکر حسین صاحب کا پیش کردہ قاعدہ درست اور صحیح ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس مذہب میں کوئی شخص ایک دفعہ داخل ہو جاوے خواہ اسلام یا کوئی اور مذہب پھر اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس مذہب کو کسی صورت سے ترک کر سکے۔اب اگر اس کے لئے اس مذہب سے نکلنے کا کوئی دروازہ ہے تو وہ موت کا ہی دروازہ ہے اور کوئی راہ نہیں۔لیکن یہ بداہتا باطل ہے۔کیا مولوی شاکر حسین صاحب اس بات کے تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں کہ اگر ایک شخص مسیحی مذہب اختیار کرے تو پھر وہ پابند ہو جاتا ہے کہ تا دم مرگ مسیحی مذہب پر ہی قائم رہے اور اس کو کوئی حق نہیں کہ وہ مسیحی مذہب چھوڑ کر کوئی دین قبول کرے؟ مولوی صاحب ! یہ ہے نتیجہ آپ کی دلیل کا۔اس سے تو لازم آتا ہے کہ جس مذہب کو ایک دفعہ انسان قبول کرے اس کو اختیار نہیں رہتا کہ پھر اس مذہب کو ترک کر سکے۔جب تک کہ وہ کسی مذہب کو قبول نہیں کرتا اس وقت تک وہ آزاد ہے جس مذہب کو چاہے قبول کرے۔لیکن جو نہی کہ وہ ایک مذہب کو قبول کرتا ہے اس کی آزادی چھینی جاتی ہے اور وہ آزادی کا قانون جس سے وہ پہلے فائدہ اٹھا سکتا تھا اب اس سے ہمیشہ کے لئے محروم کر دیا جاتا ہے کیونکہ اب وہ قاعدہ اس پر جاری نہیں ہوسکتا۔مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ معمولی اور موٹی سی بات ہے کہ بادشاہ وقت کسی کو زبردستی اپنی ملازمت میں منسلک نہیں کرتا لیکن جو شخص اس کی ملازمت میں داخل ہو چکا ہے اس کو کبھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جب چاہے اس ذیل سے نکل جائے۔مولوی صاحب! بے شک یہ معمولی اور موٹی سی بات ہے مگر کیا وجہ ہے کہ یہ معمولی اور موٹی سی بات صرف اسلام پر چسپاں ہو سکے اور دوسرے ادیان پر چسپاں نہ ہو سکے؟ کیوں یہ مثال ہندو مذہب یا مسیحیت یا بدھ مذہب وغیر ہا پر