قتل مرتد اور اسلام — Page 100
100 ادعى فرعون الربوبية وعبد بنوا اسرائيل العجل۔یعنی اپنے نفسوں کو اپنی نفسانی خواہشوں کے قلمع قمع کے ذریعہ قتل کرو کیونکہ نفسانی خواہشیں نفس کی جان ہیں۔اور اپنی نفسانی خواہشوں کی وجہ سے فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا اور انہی خواہشوں کی وجہ سے بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پرستش کی۔انہی معنوں کی تائید مفردات راغب کی مندرجہ ذیل عبارت سے ہوتی ہے:۔قيل عنى بقتل النفس اماطة الشهوات یعنی ایک قول یہ بھی ہے کہ قتل نفس سے مراد شہوات کا مٹانا ہے۔ان معنوں کی رو سے تو قتل کا سوال ہی اٹھ جاتا ہے اور مولوی صاحب کا ایضاح اور تصریح سب بالائے طاق دھرے رہ جاتے ہیں۔مولوی شبیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں کسی اور معنے کی گنجائش ہی نہیں مگر پہلے لوگ اس آیت کے اور معنے لکھ چکے ہیں جن کی رو سے قتل کا سوال ہی باقی نہیں رہتا اور مولوی صاحب کی ساری تحدی خاک میں مل جاتی ہے۔پھر فتح البیان جلد اصفحہ 11 میں لکھا ہے:۔فاقتلوا انفسكم اى اجعلوا القتل متعقبا للتوبة تماما لها ، يعني فاقتلوا انفسکم کے یہ معنے ہیں کہ قتل کے ساتھ تو بہ کی تکمیل کرو۔یہ وہی معنے ہیں جو اوپر لکھے جاچکے ہیں اور مولوی صاحب کے استدلال کو باطل کرتے ہیں۔وو پھر بحر المحیط جلد نمبر اصفحہ ۲۰۸ میں لکھا ہے۔وانظر الى لطف الله بهذه الملة المحمدية اذجعل توبتها في الاقلاع عن الذنب والندم عليه والعزم على عدم المعاودة اليه یعنی دیکھو اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ پر کیسا لطف فرمایا ہے کہ ان کے لئے تو بہ صرف یہی ہے کہ وہ گناہ سے باز آجائیں اور اس پر پشیمان ہوں اور آئندہ کے لئے پختہ ارادہ کر