قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 95 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 95

95 اپنے پیش کردہ اصول کی تائید ہوتی ہے یا تردید۔مولوی صاحب نے تو ہمیں مثالیں دے دے کر یہ سمجھایا تھا کہ مرتد کے متعلق پہلے کوشش کرو کہ وہ تائب ہو جائے اور اس کو سمجھانے کے لئے پورا زور لگاؤ اور جب کوئی تدبیر کارگر نہ ہو اور کامل مایوسی تک نوبت پہنچ جائے تب لا چار ہو کر قتل کرو۔مگر مولوی صاحب کی تفسیر یہ کہتی ہے کہ پہلے اس بیمار عضو کے اچھا کرنے کی کوشش کرو اور جب وہ اچھا ہو جاوے تو پھر اس کو کاٹ دو۔مولوی صاحب! آپ کی ڈاکٹر والی مثال کدھر گئی؟ کیا اس مثال کا یہی مطلب ہے کہ ڈاکٹر کو چاہیے کہ ٹوٹے ہوئے عضو کی پہلے اصلاح کرے اور جب اس کی اصلاح ہو جاوے اور عضو درست ہو جاوےاور ڈاکٹر اپنے علاج میں کامیاب ہو جاوے اس کے بعد اسے چاہئیے کہ وہ اس عضو کو کاٹ کر پھینک دے۔کیا ایسا ڈاکٹر عقلمند کہلائے گا یا پاگل ؟ معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کو خود یہ بات کھٹکی ہے اور ان کو یہ بات سوجھ گئی ہے کہ ان کی تفسیر خود ان کی اپنے اصل کے خلاف ہے اس لئے انہوں نے ناظرین کی آنکھوں پر یہ کہہ کر پٹی باندھنے کی کوشش کی ہے کہ اب بھی بعض اقسام مرتد کے متعلق علماء کا یہی فتویٰ ہے کہ وہ تو بہ کے بعد بھی حداً قتل کیا جائے گا۔‘ مولوی صاحب نے ایک گول مول بات کہہ کر پردہ ڈالنا چاہا ہے۔مگر ایسی چالبازیوں سے حق نہیں چُھپ سکتا۔مولوی صاحب کو چاہیئے تھا کہ اس بات کو کھول کر بیان فرماتے کہ وہ کون سے مرتد ہیں جن کے متعلق علماء کا یہ عام فتویٰ ہے کہ باوجود سچی اور خالص توبہ کے بھی ان کو محض ارتداد کے جرم میں قتل کر دیا جاوے۔تاہم دیکھ سکتے کہ آیا یہ آیت ایسے مرتدین پر چسپاں ہوتی ہے یا نہیں؟ مولوی صاحب کو یہ بات یاد رکھنی چاہئیے۔کہ بحث اس امر کے متعلق ہے کہ آیا مرتد کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل کرنا واجب یا جائز ہے۔مولوی صاحب کا یہ دعویٰ ہے کہ مرتد کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل کرنا واجب ہے اور اسی امر کے ثابت کرنے کے لئے انہوں نے قلم اٹھایا ہے اور بڑی تحدّی سے یہ دعا کیا ہے کہ میں اس دعوی کو قرآن شریف