قتل مرتد اور اسلام — Page 81
81 ہے۔انہوں نے اس آیت کے ایک ایسے ٹکڑے سے قتل کا حکم نکالا ہے جہاں کسی دوسرے شخص کے وہم میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ یہاں سے بھی قتل کا حکم نکالا جا سکتا ہے۔أوليك حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (التوبة 69) سیہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا کے متعلق بھی اور آخرت کے متعلق بھی ضائع ہو گئے۔ناظرین تعجب کریں گے کہ ان الفاظ سے قتل کا حکم کس طرح مستنبط ہو سکتا ہے۔مگر جن مولوی صاحب کا ذکر کر رہا ہوں وہ تو فرماتے ہیں کہ حبط اعمال کے بجر قتل کے کوئی اور معنی ہو ہی نہیں سکتے۔مولوی صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ فی الدنیا سے ضرور یہ مفہوم نکلا کہ مرتد کے اعمال جن کو وہ دنیا میں کرتا ہے سب کے سب ارتداد کی وجہ سے باطل ہوں گے اور اعمال دینویہ کے بطلان کا امکان اس وقت تک نہیں ہو سکتا جس وقت تک کہ اس کا بدن جو کہ مبدائے اعمال دنیو یہ ہے موجود رہے۔الہذا حط فی الدنیا کی سزا کے معنے بجز اعدام کے کچھ نہیں ہو سکتے “ مجھے اس عجیب غریب تفسیر پر جرح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں صرف مولوی صاحب سے اتنا پوچھتا ہوں کہ اگر آپ کے یہ معنے درست ہیں تو کیا ان سب لوگوں کو جن کے حبط اعمال کا ذکر قرآن شریف کی آیات میں پایا جاتا ہے بموجب نص قرآن سنگسار کرنا چاہئیے ؟ مولوی صاحب کیا فتویٰ دیتے ہیں ایسے لوگوں کے بارہ میں جن کا ذکر قرآن شریف کی مندرجہ ذیل آیات میں ہے:۔(1) وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِى الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ (المائدة:6) اور جو ایمان کی باتوں کو نہ مانے تو اس کا کیا کرایا اکارت ہے اور آخرت میں بھی وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔(۲) وَلَوْ اَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام: 89)