قتل مرتد اور اسلام — Page 64
64 نیز سورۃ بقرہ : 195 میں فرماتا ہے:۔وَالْحُرُمَتُ قِصَاصُ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ اور سب ہی عزت والی چیزوں کی ہتک کا بدلہ لیا جاتا ہے اس لئے جو شخص تم پر زیادتی کرے تم بھی اس سے اس کی زیادتی کا جس قدر کہ اس نے تم پر زیادتی کی ہو بدلہ لے لو۔اور آیت پیش کردہ کے بعد بھی قصاص کی آیت قرآن شریف میں نازل ہوئی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ مائدۃ میں فرماتا ہے۔وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَ بِالسِّنِ وَالْجُرُوحَ قِصَاص (المائدة: 46) اور ہم نے اس تو رات میں ان پر فرض کیا تھا کہ جان کے بدلہ میں جان اور آنکھ کے بدلہ میں آنکھ اور ناک کے بدلہ میں ناک اور کان کے بدلہ میں کان اور دانت کے بدلہ میں دانت اور زخموں کے بدلہ میں زخم برابر کا بدلہ ہیں۔پس قاتل متعمد کے متعلق تو قتل مرتد کے حامی صرف ایک آیت ایسی پیش کرتے ہیں جس میں اُخروی سزا کا ذکر ہے اور قصاص کا ذکر نہیں لیکن اُس ایک آیت کے مقابل میں کم از کم چار آیتیں موجود ہیں جن میں ایسے قاتل سے قصاص کا صریح حکم موجود ہے۔مگر قرآن شریف میں کم از کم پندرہ آیات موجود ہیں جن میں ارتداد کا ذکر تو ہے لیکن قتل کی سزا کہیں بھی مذکور نہیں۔پس حامیان قتل مرتد کا وَمَنْ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ کی آیت کو بطور نظیر کے پیش کرنا ان کے لئے کچھ بھی مفید نہیں بلکہ اس سے ان کے خلاف استدلال ہو سکتا ہے کہ اگر مرتد کے لئے بھی قتل کی سزا ہوتی تو جیسے قاتل کی صورت میں اگر ایک جگہ صرف اُخروی سزا کا ذکر ہے تو کم از کم چار جگہ قصاص کا صریح