قتل مرتد اور اسلام — Page 54
54 عن بذل الجهد و قد دلّت الآية على وجوب جهاد المنافقين وليس في الآية ذكر كيفية ذلك الجهاد فلا بد من دليل اخر وقد دلت الدلائل المنفصلة انّ الجهاد مع الكفّار انّما يكون بالسيف ومع المنافقين باظهار الحجّة عليهم تارة وبترك الرفق بهم تارة وبالانتهار تارة و هذا هو قول ابن مسعود۔(فتح البیان جلد 4 صفحہ 134) طبری نے کہا ہے کہ سب اقوال سے میرے نزدیک بہترین قول ابن مسعود کا ہے کیونکہ جہاد کے معنے ہیں کوشش کرنا۔اس آیت کریمہ سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ منافقین کے ساتھ جہاد کرنا واجب ہے لیکن اس آیت میں اس جہاد کی کیفیت بیان نہیں کی گئی۔پس ضروری ہے کہ اس کے لئے کوئی اور دلیل ہو اور کھلے کھلے دلائل سے یہ امر ظا ہر ہوتا ہے کہ کفار کے ساتھ جہاد تو تلوار کے ساتھ ہوتا ہے اور منافقین کے ساتھ یہ ہے کہ کبھی تو ان پر اتمام حجت کی جائے اور کبھی نرمی کا سلوک ان کے ساتھ ترک کیا جائے اور کبھی ان کو زجر کی جائے اور یہی ابن مسعود کا قول ہے۔یہاں مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی کا ترجمہ اور نوٹ نقل کرنا بھی خالی از فائدہ نہ ہوگا۔مولوی نذیر احمد صاحب اس آیت کریمہ کا ترجمہ حسب ذیل الفاظ میں کرتے ہیں۔اے پیغمبر! کافروں کے ساتھ (ہتھیار سے ) اور منافقوں کے ساتھ ( زبان سے ) جہاد کرو اور ان پر سختی کرو کہ (یہ اس سختی کے مستحق ہیں ) اور (آخر کار ) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔“ اس ترجمہ پر حسب ذیل نوٹ لکھتے ہیں۔ہتھیار اور زبان کی قید ہم نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے برتاؤ سے کی ہے کہ منافقوں پر کبھی کافروں کا سا جہاد نہیں ہوا۔“