قتل مرتد اور اسلام — Page 51
51 قتل کی سز انہیں دی گئی تو ہم کو مانا پڑے گا کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے۔اس امر کے فیصلہ کے لئے جب ہم قرآن شریف کی طرف رجوع کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا کہ منافقین کو قتل کی سزا دی جائے۔برخلاف اس کے قرآن شریف کی آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کو اجازت نہ تھی کہ ان پر قتل کے لئے ہاتھ اٹھائے بلکہ وہ اپنی طبعی موت تک زندہ رہنے دیئے جاتے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ وَمَاتُوْا وَهُمْ فَسِقُوْنَ وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كُفِرُونَ (التوبة: 85،84) " (اے پیغمبر) ان میں سے اگر کوئی مرجائے تو اس پر نماز جنازہ نہ پڑھا کر اور نہ اس کی قبر پر دعا کے لئے کھڑا ہوا کر۔کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور ایسی حالت میں مرے ہیں جبکہ وہ اطاعت سے خارج ہورہے تھے۔اور ان کے مال اور ان کی اولاد تجھے تعجب میں نہ ڈالیں۔اللہ صرف یہ چاہتا ہے کہ ان مالوں اور اولادوں کے ذریعہ سے ان کو اس دنیا میں عذاب دے اور یہ کہ ان کی جانیں ایسے وقت میں نکلیں کہ وہ منکر ہی ہوں۔“ ان آیات سے ظاہر ہے کہ منافقین کے لئے جن کو اللہ تعالیٰ مرتد قرار دیتا ہے قتل کی سزا نہ تھی کیونکہ اگر ان کی نسبت یہ حکم ہوتا کہ چونکہ انہوں نے اسلام کے بعد کفر اختیار کیا ہے اس لئے ان کو قتل کر دو تو پھر یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ اگر ان میں سے کوئی مرجائے تو اس کا جنازہ نہ پڑھنا۔نیز ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ارتداد کے بعد بظاہر لوگوں کی نظر میں وہ خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے اور ان کے پاس بہت سا مال و دولت اور بہت سی اولا د ہوتی تھی۔