قتل مرتد اور اسلام — Page 45
45 قرآن شریف اجازت دیتا ہے اور ان امور کو استحسان اور پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے پس اس صورت میں قتل کی سزا مقرر کر کے لوگوں کو ارتداد سے روکنے سے کوئی حرج نہیں بلکہ یہ بہت ہی اچھی بات ہے لیکن اگر معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے اور خدا تعالیٰ نفاق کی اجازت نہیں دیتا بلکہ نفاق کو کفر سے بھی بدتر قرار دیتا ہے اور ان سے وہ برتاؤ نہیں کرتا جو دوسرے مسلمانوں سے کیا جاتا ہے اور اس بات کو پسند کرتا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت ایسے لوگوں کے وجود سے پاک رہے اور اللہ تعالیٰ ضرور خود ایسے ذریعے پیدا کرتا ہے کہ اسلام کا وجود نفاق کی خبث سے پاک رہے۔تو اس سے لازمی طور پر نتیجہ نکلتا ہے کہ مرتد کو محض ارتداد کی سزا میں قتل کرنا اسلام کی رو سے ناجائز ہے کیونکہ اس سے نفاق پیدا ہوتا ہے اور اسلام کا خدا چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت منافقین کے خبث سے بکلی پاک رہے۔پس آؤ ہم اب قرآن شریف کی طرف رجوع کریں اور دیکھیں کہ اسلام میں منافقین کی کیا حیثیت ہے۔قرآن شریف میں ہمیں منافقین کے بارے میں مندرجہ ذیل قرآنی آیات اور اسی رنگ کی دوسری آیات نظر آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔بَشِّرِ الْمُنْفِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا - (النِّسَاء: 139) اس آیت کا ترجمہ مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی نے حسب ذیل الفاظ میں کیا ہے۔(اے پیغمبر) منافقوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کو آخرت میں دردناک عذاب ہونا ہے۔پھر اسی رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- اِنَّ اللهَ جَامِعُ الْمُنْفِقِينَ وَالْكُفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا - (النِّسَاء: 141) اللہ تعالیٰ منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں جمع کر کے رہے گا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے صرف یہی نہیں کہ منافقین کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو کفار کے ساتھ کیا جائے گا اور ان کو بھی کفار کی طرح دوزخ میں ڈالا جائے گا بلکہ منافق دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے۔یعنی وہ اشد ترین عذاب