قتل مرتد اور اسلام — Page 40
40 اب دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا راہ اختیار کی اور ان کی قوم نے کیا طریق اختیار کیا؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اپنی قوم کو ان کی اعتقادی اور عملی کمزوریوں پر متنبہ کرتے ہیں مگر ان کی قوم ان کو آگ میں جلانے کا فیصلہ کرتی ہے اور ان کے اب آزر سنگسار کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔پھر حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد حضرت موسی کلیم اللہ علیہ السلام کے زمانہ کی طرف آؤ اور دیکھو وہاں ہمیں کیا نظارہ نظر آتا ہے حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیہا الصلوۃ والسلام کو تو حکم ہوتا ہے۔إِذْهَبَا إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى فَقُوْلَا لَهُ قَوْلًا لَّيْنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشُى (طه: 45۔44) دونو فرعون کے پاس جاؤ۔اس نے بہت سراٹھا رکھا ہے۔پھر اس سے نرمی سے بات کرو شاید وہ سمجھ جائے یا ڈرے۔اس کے مقابل میں فرعون اور اس کی قوم کا عمل دیکھو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ وَمَا كَيْدُ الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَلٍ وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ اِنّى اَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ (المؤمن: 27،26) غرض کہ جب موسیٰ ہماری طرف سے حق لے کر فرعون، ہامان وغیرھما کے پاس آئے تو انہوں نے حکم دیا کہ جولوگ موسی کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو، اور کافروں کی تدبیریں تو آخر کا رسب غلط ہی ہو جاتی ہیں اور فرعون نے (اپنے درباریوں سے ) کہا کہ مجھے موسی کو قتل کرنے دو اور وہ اپنے پروردگار کو اپنی امداد کے لئے بلائے۔مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ا