قتل مرتد اور اسلام — Page 30
30 مذہب کو نا پسند کرتے ہوں تو پھر ہم سے اس امر کا مطالبہ کرنا کہ ہم اپنی مرضی کے خلاف تمہارے مذہب کی طرف لوٹ آئیں ایک غیر معقول فعل ہے۔اس دلیل سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف کسی دین میں داخل ہونے کے لئے مجبور کرنا ہرگز جائز نہیں۔66 پس اگر اولو كُنَّا کرِهِينَ “ کی دلیل درست ہے تو مسلمانوں کے لئے بھی یہ نا جائز ہے کہ وہ اسلام سے ارتداد اختیار کرنے والے کسی انسان کو یہ کہیں کہ لنَقْتُلَنَّكَ يَافُلَانُ اَوْلَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ، بلکہ قتل کرنا تو کجاوہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے لَنُخْرِجَنَّكَ يَافُلَانُ مِنْ قَرْيَتِنَا اَوْلَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ، کیونکہ اگر وہ ایسا کہیں گے تو وہ ان کے جواب میں کہ سکتا ہے اَوَلَوْ كُنَّا كَرِهِین “۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر حضرت شعیب کی یہ دلیل اپنے اندر کوئی سچائی اور معقولیت رکھتی ہے تو مرتد کے قتل کا فتویٰ غلط ہے اور اگر مرتد کو محض ارتداد کے لئے قتل کرنے کا فتویٰ درست ہے تو حضرت شعیب کی اَوَلَوْ كُنَّا كُرِهِينَ “ والی دلیل نعوذ باللہ غلط ٹھہرتی ہے۔پھر دیکھو اللہ تعالیٰ اس درد کا ذکر کرتے ہوئے جو آنحضرت ﷺ کو اپنی قوم کے متعلق تھا فرماتا ہے :۔وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَأمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيْعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِيْنَ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْ مِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ وَيَجْعَلْ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (يونس: 100 ،101) اے پیغمبر! تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے آدمی روئے زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔تم لوگوں کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ سب کے سب ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی شخص ایمان نہیں لا سکتا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے جو عقل کو کام میں نہیں لاتے۔