قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 235 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 235

235 ان تمام واقعات سے ظاہر ہے کہ ان مدعیان نبوت کو نبوت سے کوئی غرض نہ تھی۔ان کا منشاء صرف حکومت کا حاصل کرنا تھا۔اس لئے یہ سب سلطنت کے باغی تھے اور ان کی اس بغاوت کی وجہ سے ان کے ساتھ قتال کیا گیا۔پس ان کی مثال سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے۔مدعیان نبوت کے ساتھ بھی قتال کی وہی وجہ تھی جو دوسرے مرتدین کے ساتھ قتال کرنے کی وجہ تھی یعنی ان سب نے اسلامی سلطنت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔مسلمانوں کو قتل کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ عمال کو اپنے اپنے علاقوں سے نکال کر خود حاکم اور متصرف بن بیٹھے اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے جمعیت اکٹھی کی اور بعض نے مدینہ پر چڑھائی بھی کر دی اور مدینہ کا محاصرہ کیا۔پس یہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے ضروری تھا کہ ان باغیوں سے قتال کیا جاتا۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر یہ مرتدین ان جرائم کے مرتکب نہ بھی ہوتے جو ان سے ارتداد کے بعد سر زد ہوئے اور جن کی وجہ سے حفاظت اسلام کیلئے ان سے قتال کرنا واجب ہو گیا اور ان کا جرم صرف اسی قدر ہوتا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے زکوۃ دینے سے انکار کرتے تو ان کا یہ اکیلا انکار اس بات کیلئے کافی تھا کہ ان سے قتال کیا جاتا اور اس کی وجہ انہی الفاظ میں موجود ہے جو حضرت ابو بکر نے صحابہ کے مشورہ کے وقت فرمائے کہ خدا کی قسم ! جب تک یہ تلوار میرے ہاتھ میں ہے میں منکرین زکوۃ کے ساتھ ایک عقال کی کمی کے واسطے بھی جہاد کروں گا۔جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک بکری کا بچہ بھی بطور زکوۃ کے دیتے تھے اگر اب نہ دیں گے تو میں اس کے نہ دینے پر ان سے جہاد کروں گا۔اس قول کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف روحانی معنوں میں خلیفہ نہ تھے بلکہ وہ بادشاہت میں بھی آپ کے جانشین تھے۔