قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 220 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 220

220 آنحضرت سے یہ سنا ہو گا اس بات کو واجب نہیں کرتا کہ صحابی کے قول کی تقلید کی جائے۔کیونکہ قیاس ایک شرعی حجت ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔پس ایسی چیز کو جس پر عمل کرنا واجب اور ضروری ہے محض اس احتمال سے کہ شائد صحابی نے سنا ہو چھوڑا نہیں جا سکتا۔قمر الاقمارکا فاضل مصنف لکھتا ہے:۔ولو كان ما قاله الصحابي مسموعا من الرسول صلى الله عليه وسلم لرفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم۔۔۔۔۔ولما لم يرفعه علم انه من اجتهاده و اجتهاده و اجتهاد غيره متساويان في احتمال الخطأ لعدم عصمته فلا يكون حجة وهذا فيما يدرك بالقياس واما ما فيما لا يدرك بالقياس فيجوز ان الصحابي انما افتی به بخبر ظنه دليلا ولا يكون كذلك فمع جوازان لا يكون دليلا كيف يلزم غيره فلا يكون حجة یعنی صحابی جو بات کہتا ہے اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہوتی تو وہ اس بات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کرتا۔اور جب اُس نے ایسا نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے اجتہاد سے ایسا کہتا ہے اور صحابی اور غیر صحابی کا اجتہاد اس امر میں برابر ہے کہ دونوں میں خطا کا احتمال ہے کیونکہ وہ معصوم نہیں۔پس اُس کا قول حجت نہیں۔یہ ایسے امور کے متعلق ہے جو قیاس سے معلوم ہو سکتے ہیں اور جو امر قیاس سے معلوم نہیں ہوسکتا اُس میں ممکن ہے کہ صحابی نے اُس بات کا فتویٰ ایسی خبر کی بنا پر دیا ہو جس کو اُس نے دلیل خیال کر لیا حالانکہ وہ دلیل نہ ہو۔پس جب یہ ممکن ہے کہ جس چیز کو اُس نے دلیل خیال کیا ہے وہ حقیقت میں دلیل نہ ہو تو اس صورت میں اُس بات کا ماننا کسی دوسرے پر کیونکر لازمی ہوسکتا ہے۔نورالانوار میں لکھا ہے۔