قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 219 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 219

219 لوگوں کو اسی طرح دعوت دیتا جس طرح کہ نبی علیہ السلام اپنے قول کی طرف دعوت دیتا ہے۔پھر اُسی کتاب کے صفحہ ۰۰ اپر لکھا ہے:۔وروى عـن عـمـر كـتـب الـى شـريـح ان اقض بكتاب الله ثم بسنة رسول الله ثم برأيك ولم يقل بقولى۔یعنی حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے شریح کولکھا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کرنا اس کے بعد سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور اُس کے بعد اپنی رائے کے ساتھ اور یہ نہیں فرمایا کہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میرے قول کے ساتھ فیصلہ کر۔اور احناف کے نزدیک جوامر قیاس سے معلوم ہوتا ہے اُس میں صحابی کی تقلید ہرگز ضروری نہیں۔اور قتل مرتد ایک ایسا مسئلہ ہے جو قیاس کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔کیونکہ ہم قرآن شریف کی آیات سے یہ قیاس کر سکتے ہیں کہ اسلام میں قتل مرتد جائز نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ قرآن شریف کی کئی آیات کے صریح خلاف ہے۔پس جو امر قرآن شریف سے قیاس کیا جا سکتا ہے اُس میں فقہ حنفیہ بھی صحابی کے قول یا فعل کو ضروری قرار نہیں دیتی اور جن امور میں صحابی کی تقلید کا جواز بیان کیا گیا ہے اُن میں بھی اس جواز کی بنیاد یہ ٹھہرائی گئی ہے کہ احتمال ہے کہ اُس صحابی نے یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔اور اس میں بھی خود حنفی مذہب کے علماء صحابی کی تقلید واجب قرار نہیں دیتے۔قمر الا قمار شرح نورالانوار میں لکھا ہے:۔وفيه على ما افاد بحر العلوم انّ احتمال السماع ليس بموجب والقياس حجة شرعيّة موجبة للعمل فكيف يترك بمجرد الاحتمال۔یعنی علامہ بحر العلوم نے اس بارہ میں یہ مفید بات کہی ہے کہ یہ احتمال کہ صحابی نے