قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 176 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 176

176 ایک چیز کو جانتا ہے۔پس آپ کا اس امر کو منظور فرما لینا کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں میں سے مرتد ہوکر مشرکین کی طرف چلا جائے گا تو اس کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مرتدین کے لئے کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی۔ورنہ آپ فرماتے کہ یہ شرعی حد کا معاملہ ہے اور میں شرعی حکم کے خلاف تمہارے ساتھ معاہدہ نہیں کر سکتا کیونکہ یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔شرعی حدود کے اجراء کے معاملہ میں آپ ایسے مضبوط تھے کہ اس کے خلاف آپ کسی کی بات سننے کے لئے تیار نہ تھے۔پھر کس طرح ممکن ہے کہ شرعی مجرموں کے متعلق آپ کوئی ایسی شرط منظور فرماتے جو شرعی احکام کے نفاذ میں روک ہو۔اگر کوئی شخص یہ عذر کرے کہ ایسا شخص مکہ میں جا کر شرعی حدود کے دائرہ سے نکل جاتا تھا کیونکہ وہ اسلامی علاقہ سے نکل کر دشمن کے علاقہ میں چلا جاتا تھا تو یہ عذر درست نہیں ہے۔کیونکہ دشمن کا ملک وہ اس وقت کہلا سکتا تھا جب تک کہ صلح نہیں ہوئی تھی۔مصالحت کے بعد وہ علاقہ دشمن کا علاقہ نہیں کہلا سکتا تھا۔ایسا عذر کرنے والا مجھے انصاف سے بتائے کہ اگر مشرکین ملکہ کسی اور شرعی مجرم کی نسبت یہ شرط کرتے کہ اگر وہ ہمارے علاقہ میں آجائے تو اس پر شرعی حد جاری نہ کی جائے۔تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وجہ سے اس شرط کو منظور فرمالیتے کہ ایسا مجرم دشمن کے علاقہ میں چلا جانے کی وجہ سے اسلامی احکام کے دائرہ سے خارج ہو جاتا ہے اس لئے ایسی شرط منظور کرنے میں کوئی حرج نہیں۔میں یقین کرتا ہوں کہ ہر ایک انصاف پسند یہی کہے گا کہ آپ کسی اور شرعی مجرم کے متعلق ایسی شرط ہرگز قبول نہ فرماتے۔پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نے مرتد کے متعلق ایسی شرط منظور فرمالی ؟ اگر ارتداد کے لئے بھی ایسی ہی شرعی حد مقرر ہوتی جیسی کہ مثلا قتل یا سرقہ باز نا کے لئے حد مقرر ہے تو آپ کبھی صلح نامہ کی دوسری شرط منظور نہ فرماتے۔پس آپ کا اس شرط کو قبول کر لینا اس امر کا تین ثبوت ہے کہ ارتداد شرعی جرم نہیں سمجھا جاتا تھا اور اس کے لئے کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی۔