قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 14 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 14

14 ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ (القلم: 2) ہم قلم اور دوات کو اور اس کو جو ان کے ذریعہ سے لکھا جاتا ہے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔پس جس کو تم حقیر سمجھتے ہو خدا تعالیٰ اس کو عزت دیتا ہے اور اس کے نام پر قسم کھاتا ہے۔اگر اسلام ایک جنگی مذہب تھا تو چاہیے تھا کہ سیف و سنان کی قسم کھاتا نہ کہ ن و القلم وما يسطرون کی۔کیا تمہیں کہیں نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تلوار اور نیزے اور بندوق کی بھی قسم کھائی ہے؟ قلم تو یہ فخر کر سکتا ہے کہ قرآن شریف کی ایک سورۃ کریمہ اس کے نام سے موسوم ہے مگر کیا تلوار یا نیزہ کو بھی عزت دی گئی ہے؟ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ تمام قرآن مجید اس پہلی وحی الہی کے رنگ میں رنگین ہے جو قلم کے نشان کے ساتھ علم کا جھنڈا ہاتھ میں لئے ہوئے دنیا پر نازل ہوئی کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے اپنی ہر ایک بات کو علم کے پیرا یہ میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔وہ صرف یہی نہیں کہتی کہ ایک خدا پر ایمان لاؤ بلکہ خدا کی ہستی کے زبر دست دلائل بھی ساتھ ہی پیش کرتی ہے۔وہ صرف ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ خدا کی ذات فلاں فلاں صفات سے متصف ہے بلکہ ان صفات کے مظاہر بھی ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے تا ہمیں ان صفات کے متعلق یقین حاصل ہو۔وہ صرف یہی نہیں کہتی کہ الہام اور وحی کا نزول دنیا کی ہدایت کے لئے ضروری ہے بلکہ بدلائل اس دعوی کو ثابت کرتی ہے۔وہ صرف اتنا ہی نہیں کہتی کہ خدا کے رسولوں اور نبیوں پر ایمان لاؤ بلکہ وہ ہمیں وہ معیار بھی بتلاتی ہے جن کے ذریعہ ہم سچے اور جھوٹے مدعیوں میں امتیاز کر سکیں۔وہ صرف ہمیں یہی نہیں سکھاتی کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جو جزاوسزا کی زندگی ہے بلکہ وہ اس کا ثبوت بھی پیش کرتی ہے۔غرض جوامور ایمانیات کے متعلق ہیں وہ ان کے متعلق ہم سے اس امر کا مطالبہ نہیں کرتی کہ ہم ان کو اندھا دھند مان لیں بلکہ پہلے دلائل کے ساتھ ان کی حقیقت کا یقین ہمارے دلوں