قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 138 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 138

138 قتل مرتد کے متعلق قیاس شرعی اور عقلِ سلیم کا کیا حکم ہے؟“ مگر اس عنوان کے ماتحت وہ اپنے دعویٰ کی تائید میں ایک بھی عقلی دلیل پیش نہیں کرتے۔صرف ایک دوسرے شخص کا قول نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں لیکن جو شہادت انہوں نے اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کی ہے اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مولوی صاحب خیر سے خود ہی عقلِ سلیم سے عاری ہیں کیونکہ جو قول انہوں نے نقل کیا ہے وہ ان کے لئے بجائے مفید ہونے کے مضر ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محض ارتداد کی سزا قتل نہیں۔حالانکہ مولوی صاحب کا دعویٰ ہے کہ صرف ارتداد اور تنہا ارتداد ہی وہ جرم ہے جس کے لئے اسلام میں قتل کی سزا مقرر کی گئی ہے۔مولوی صاحب اپنے اس دعویٰ کی تائید میں کہ مرتد کا قتل عقلِ سلیم کا اقتضاء ہے حافظ ابن القیم کا مندرجہ ذیل قول نقل کرتے ہیں:۔فاما القتل فجعله عقوبة اعظم الجنايات كالجناية على الانفس فكانت عقوبة من جنسه وكالجناية على الدين بالطعن فيه والارتداد عنه و هذه الجناية اولى بالقتل وكف عدوان الجاني عليه من كل عقوبة اذ بقاؤه بين اظهر عباده مفسدة لهم ولا خير يرجى في بقائه ولا مصلحة فاذا حبس شره و امسك لسانه وكف اذاه والتزم الذل والصغار وجريان احكام الله و رسوله عليه واداء الجزية لم يكن في بقائه بين اظهر المسلمين ضرر عليهم والدنيا بلاغ ومتاع ،، الى حين۔( اعلام الموقعین جلد ۲ صفحه (۲۱۸) دو لیکن قتل کو سب سے بڑی ظلموں کی سزا قرار دیا ہے جیسا کہ کسی کی جان لے لینا۔پس یہ سزا اس جرم کی جنس میں سے ہے اور جیسا کہ دین کے متعلق ظلم کرنا یعنی اس پر طعن کرنا اور اس سے ارتداد اختیار کرنا اور اس ظلم کی سزا میں قتل کرنا اور اسی طرح ظالم