قتل مرتد اور اسلام — Page 130
130 طرف سے زندیق اور کافر بنانے کا سلسلہ جاری رہ کر (جیسا کہ تجربہ سے ثابت ہو چکا ہے) مسلمانوں کی رہی سہی تعداد کو بھی کم کرتا جائے گا۔آؤ مولوی صاحب! میں آپ کو سمجھاؤں کہ اسلام کی حفاظت کا حقیقی ذریعہ کیا ہے جس کے اختیار کرنے سے آپ اس بات پر مجبور نہیں ہوں گے کہ اسلام کی تبلیغ کرنا چھوڑ بیٹھیں۔مسلمانوں کو سچے مسلمان بناؤ۔غیر مذاہب کے مشنریوں کا لوہے کی تلوار سے نہیں بلکہ اسلامی صداقت کی تلوار کے ساتھ مقابلہ کرو تا وہ شکست کھا کر بھاگ جائیں اور آپ کے سامنے اپنا منہ نہ دکھا سکیں اور پھر آپ غیر اقوام میں ہر ایک ممکن ذریعہ سے تبلیغ کریں اور اسلام کا چمکتا ہوا چہرہ دکھائیں تا وہ اسلام پر دل و جان سے قربان ہو کر کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں۔مگر آپ سچے ہیں آپ سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔کیونکہ آپ خود اسلام سے دُور ہو گئے ہیں اور آپ کا اسلام وہ اسلام نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے اور غیر قوموں کو زندہ اسلام کا پیارا چہرہ دکھانے کے لئے مسیح موعود کو بھیجا۔اب انشاء اللہ یہ کام مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے ذریعہ ہوگا۔وَمَا تَوْفِيْقَنَا إِلَّا بِاللَّهِ قتل مرتد اور عقل حامیان قتل مرتد نے یہ امر نہایت سختی کے ساتھ محسوس کیا ہے کہ قتل مرتد ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے فطرت انسانی کراہت کرتی ہے اور جس کو عقل سلیم دھکے دیتی ہے۔جیسا کہ انہوں نے خود بھی صریح الفاظ میں تسلیم کیا ہے قتل مرتد کے یہ معنے ہیں کہ لوگوں پر دین کے معاملہ میں پوری سختی اور شدت کے ساتھ جبر کیا جاوے اور جبر ایک ایسی چیز ہے جس کو نہ صرف قرآن شریف ناجائز قرار دیتا ہے بلکہ عقل انسانی بھی اس کو نہایت ہی نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس لئے ان بزرگوں نے اپنا سارا زور لگانے اور اپنی ساری قوت