قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 125 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 125

125 مرتد کو قتل کرنا واجب ہے تو یہ عقیدہ ان کو مبارک ہو لیکن ان کو یہ آزادی حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کو اس طور پر عملی جامہ پہنائیں کہ دوسرے لوگوں کے جان و مال اور عزت کا نقصان کریں۔مولوی صاحب! افغانستان کی آبادی کا تو یہ بھی عقیدہ ہوگا کہ ایک انگریز کا فر کا قتل کرنا انسان کو سیدھا جنت میں لے جاتا ہے۔چنانچہ بعض اوقات خود انگریزی علاقہ میں بعض افغانوں نے اپنے اس عقیدہ کے مطابق بے گناہ انگریز عورتوں اور مردوں کو قتل کر کے بہشت حاصل کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔اب مولوی صاحب فرما دیں کہ اگر ایک افغان ایک انگریز کو صرف اس کے کفر کی وجہ سے اس لئے قتل کر دے کہ وہ تہ دل سے اس امر کا معتقد ہے کہ ایک انگریز کا فر کا قتل انسان کو جنت میں پہنچا دیتا ہے تو کیا مولوی صاحب انگریزی عدالت میں اس کی طرف سے وکالت کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کریں گے کہ انگریزی سلطنت آزادی ضمیر کے اصول کو صحیح تسلیم کرتی ہے اس لئے وہ ایک افغان کے اس فعل کو محل اعتراض قرار نہیں دے سکتی۔آخر جن لوگوں کی آزادی ضمیر اس امر کا فتویٰ دیتی ہے کہ ایک انگریز کافر کو قتل کرنا کار ثواب ہے وہ اگر انگریزوں کو قتل نہ کریں تو اپنی آزادی ضمیر کی نمائش کے لئے کہاں جائیں۔کیا ایسی دلیل پیش کرنے پر حج مولوی صاحب کی اس دلیل کو ان کے خلل دماغ کی طرف منسوب کر کے ان کو پاگل خانہ میں نہیں بھیج دے گا؟ کیا مولوی صاحب ایک ہندو کو یہ ترغیب دے سکتے ہیں کہ تم بے شک اپنے عقیدہ کے مطابق انسانی قربانی کی رسم ادا کرو میں تمہاری طرف سے جھگڑوں گا کہ ایسے شخص کو سزا دینا مذ ہبی آزدی کا چھینا ہے۔کیا مولوی صاحب ایک ہندو بیوہ کو جس کا خاوند ا بھی مرا ہے اور اس کی لاش مرگھٹ کی طرف اٹھا کر لے جارہے ہیں یہ تلقین کریں گے کہ تو ضرور اپنے خاوند کی چتا میں کود کرستی کی رسم ادا کر۔اگر کوئی تجھے روکے گا تو میں تیری طرف سے پریوی