قتل مرتد اور اسلام — Page 124
124 یہ کیا ہے کہ اگر آزادی ضمیر کا پیش کردہ اصول درست ہے تو کابل کی سنگساریوں پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں:۔جن لوگوں کی آزادی تعمیر قتل مرتد کا فتوی دے رہی ہے وہ اپنی آزادی کی نمائش کے لئے کہاں جائیں؟ اگر آزادی ضمیر کا مطلب یہی ہے کہ ہر شخص جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے تو پھر افغانستان کے ان لاکھوں باشندوں پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے جو نہ دل سے قتل مرتد کے معتقد ہیں؟ کیا ان پر اعتراض ان کی آزادی ضمیر سے تعرض نہیں ہے؟“ پیشتر اس کے کہ مولوی صاحب کے سوال کا جواب دوں، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آزادی ضمیر کے وہ معنے کس نے کئے جن کی بنا پر آپ اعتراض کر رہے ہیں۔کس نے کہا کہ آزادی ضمیر کے یہ معنے ہیں کہ ہر شخص جو چاہے کہے جو چاہے کرے؟ اگر حامیان عدم مقتل مرتد نے ایسا نہیں لکھا تو دنیا کی کسی اور قوم کا نام لوجو آزادی ضمیر کے یہ معنے کرتی ہو جو آپ نے اس کی طرف منسوب کر کے ان پر اعتراض قائم کرنے شروع کر دئے ہیں۔عدم قتل مرتد کے قائلین کا تو اس سے زیادہ کوئی دعوی نہیں کہ اختلاف عقائد کی خاطر یا محض کفر یا ارتداد کی وجہ سے سزا نہیں دینی چاہئیے۔میں اس امر کی اوپر تشریح کر چکا ہوں اس لئے اعادہ کی ضرورت نہیں۔آزادی ضمیر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس کو چاہے قتل کرے۔جس کو چاہے ذلیل کرے۔جس کا چاہے مال چھین لے۔جس کا چاہے حق دبا لے۔دیکھو سلطنت برطانیہ نے اپنی رعایا کو مذہبی آزادی دے رکھی ہے مگر باوجود اس مذہبی آزادی کے وہ کسی ہندو عورت کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ستی ہو جاوے۔نہ کسی ہندو کو یہ اجازت دیتی ہے کہ وہ کسی انسان کی قربانی کرے کیونکہ اس کا اثر تمدن پر اور دوسروں کے حقوق پر پڑتا ہے اور آزادی ضمیر کا یہ منشا نہیں کہ انسان اپنے خیال کے مطابق لوگوں کے حقوق بھی دبا لے۔پس اگر افغانستان کی آبادی یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ