قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 123 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 123

123 قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف: 159) (اے پیغمبر ) کہو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا کے لئے مبعوث ہوئے تو دنیا کی تمام قوموں کا فرض ہے کہ وہ آپ کو قبول کریں اور جن قوموں نے قبول نہیں کیا وہ بھی اسلام سے ایسے باغی ہیں جیسے مرتد باغی ہیں۔پس اگر اسلام سے بغاوت کی سزا قتل ہے تو دنیا کے تمام کفار کو قتل کرنا چاہئیے نہ صرف مرتدین کو۔مرتدین میں اور دوسرے کفار میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ مرتدین نے ایک دفعہ اطاعت قبول کر کے پھر سرکشی اختیار کی اور دوسرے کفار ابتداء ہی سے سرکش رہے اور اطاعت سے سرے سے ہی انکار کر دیا۔پس اگر کسی ظاہری سلطنت کی طرف سے ایسے سرکشوں کی سرکوبی کی ضرورت ہوتی تو نہ صرف مرتدین اس سرکوبی کے مستحق تھے بلکہ تمام کفار کی سرکوبی ضروری تھی۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نہ کفر کی سزا مقررفرمائی ہے نہ ارتداد کی بلکہ دونوں کی سزا کے لئے آخرت میں جہنم تیار کیا گیا ہے۔اس دنیا میں کفار اور مرتدین ہر دو کو صرف اس صورت میں سزا دی جائے گی جب وہ اسلامی سلطنت کا مقابلہ کریں یا اسلامی سلطنت کی حدود میں فساد کے مرتکب ہوں ورنہ محض کفر یا ارتداد کے لئے اس دنیا میں کوئی سزا مقرر نہیں۔دونو کے لئے اللہ تعالیٰ صرف آخرت کی سزا بیان فرماتا ہے اور بس۔اگر صرف مرتد کو قتل کیا جاوے اور باقی کفار سے کوئی تعرض نہ کیا جاوے تو اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ چونکہ مرتد اکا دُکا مسلمانوں کے قابو میں ہوتا ہے اس لئے اس کو تو قتل کر دیتے ہیں اور باقی کفار چونکہ ایک جمعیت رکھتے ہیں اور ان کو قتل کرنا آسان کام نہیں اس لئے ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔آزادی ضمیر اور کابل کی سنگساریاں آزادی ضمیر کے اصول پر جرح کرتے ہوئے حامیان قتل مرتد نے ایک اعتراض