قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 115 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 115

115 چسپاں نہ کی جائے؟ مولوی صاحب! کیا یہ انصاف کی بات ہے کہ اس مثال کو اپنے لئے خاص کر لیں دوسروں کو اجازت نہ دیں کہ وہ بھی اس مثال سے آپ کی طرح فائدہ اٹھائیں؟ مولوی صاحب! اگر یہ مثال درست ہے تو اس سے تو یہ بھی لازم آتا ہے کہ کسی غیر مذہب کے آدمی کو اپنے مذہب میں داخل نہ کیا جاوے کیونکہ وہ تو ایک دوسرے آقا کا ملازم ہے۔ہمیں حق نہیں کہ ہم اس کو اپنی ملازمت میں داخل کر لیں۔وہ تو اپنے پہلے آقا کی ملازمت چھوڑ نہیں سکتا۔کیونکہ آپ کا قاعدہ اس بات سے مانع ہے کہ کوئی شخص اپنے آقا کی ملازمت کو چھوڑ سکے۔امید ہے کہ اس وقت تک مولوی صاحب پر یہ امر بخوبی واضح ہو گیا ہو گا کہ ان کی پیش کردہ دلیل بالکل لغو اور لچر ہے اور وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ اگر کوئی شخص ایک دفعہ ایک دین کو قبول کر لے تو وہ اس دین کو ترک کرنے کے معاملہ میں اب بھی ویسا ہی آزاد ہے جیسا کہ وہ اپنے سابقہ دین کو ترک کرنے کے لئے آزاد تھا۔لیکن میں ایک اور طریق سے بھی مولوی صاحب کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔مولوی صاحب! آپ اپنی ہی پیش کردہ مثال پر مزید غور فرماویں۔کیا بادشاہان وقت استعفا بھی منظور فرمایا کرتے ہیں یا نہیں ؟ کیا تمام مہذب سلطنتوں میں استعفا کا رواج بھی جاری ہے یا نہیں؟ پس اگر آپ کی ہی مثال کو لیا جاوے تب بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک دین کو قبول کرنے کے بعد پھر اس سے مستعفی ہو سکتا ہے۔اس کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ مثال ایک لطیف سبق سکھاتی ہے اور میں مولوی صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے اس مثال کو پیش کیا۔دراصل اگر مولوی صاحب اسی اپنی پیش کردہ مثال پر غور فرماویں تو یہی اکیلی مثال ان کی ہدایت کے لئے کافی ہے۔میں مولوی صاحب کی ہی مثال کو لے کر مولوی صاحب سے ایک سوال کرتا ہوں اور اس کا جواب ان سے مانگتا ہوں۔مولوی صاحب مجھے بتائیں! ایک شخص بادشاہ وقت کی