قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 110 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 110

110 چوری کی۔عقیدہ اور عمل دونوں میں آزدی ہونی چاہئیے۔اقول: اگر عقیدہ اور عمل دونو کا ایک ہی حال ہوتا تو اس صورت میں بے شک ضروری تھا کہ دونو میں اس کو آزادی حاصل ہوتی۔لیکن دونو کا ایک حال نہیں۔جب عقائد سے گزرکر انسان اعمال کی طرف جاتا ہے تو اس کے بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جن کا ضرر یا فائدہ دوسرے انسان کو پہنچتا ہے اس لئے وہ ان افعال میں اب آزاد نہیں ہو سکتا۔اس کی آزادی اس دائرہ تک محدود ہے جہاں تک صرف اس کی ذات کا تعلق ہے۔لیکن جب اس کے افعال اس دائرہ میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں اس کی غلطی سے دوسرے لوگوں کو ضرر پہنچ سکتا ہے تب اس کی آزادی رو کی جاتی ہے کیونکہ اب صرف اسی کی ذات کا سوال نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے حقوق کا بھی سوال ہے اور اس کو کوئی حق نہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچائے اور ان کے حقوق کو تلف کرے۔اس لئے اگر وہ کوئی ایسا فعل کرنا چاہے گا جس سے دوسروں کو ضرر پہنچتا ہو تو وہاں اس کے ہاتھ کو روک دیا جائے گا اور اس کی آزادی اس سے چھینی جائے گی۔یہی اصل ہے جس پر تمام شرعی احکام کی بنیاد ہے اور تمام دنیا کی حکومتوں کے قوانین اسی اصول پر جاری ہیں۔جہاں محض اس کی ذات کا تعلق ہے وہ آزاد ہے لیکن جہاں اس کے افعال کا اثر تمدن پر پڑتا ہے وہاں شریعت کا قانون اور ایسا ہی انسانی حکومتوں کا قانون دخل دے گا۔معترض کہتا ہے کہ اگر اسے ضمیر کی آزادی حاصل ہے تو پھر اسے اجازت ہونی چاہئیے کہ جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔نہ چوری کی وجہ سے اس کے ہاتھ کاٹنے چاہیں اور نہ زنا کی وجہ سے اسے کوڑے لگانے چاہیں اور نہ شراب خوری کی حد اس پر جاری کرنی چاہئیے۔میں کہتا ہوں کہ ان افعال میں وہ آزاد نہیں ہوسکتا کیونکہ ان افعال کا تعلق تمدن سے ہے وہ ایسے افعال میں آزاد نہیں۔ہاں عقائد