قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 53 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 53

53 میرا باپ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کو ایذا دیتا ہے آپ مجھے اجازت 66 دیں کہ میں اسے قتل کر دوں۔“ مگر آپ نے ہر دفعہ اسے روک دیا پھر اس سے بڑھ کر آپ نے اس رئیس المنافقین کے ساتھ اس کے مرنے پر یہ سلوک کیا کہ آپ نے اس کے بیٹے کو اپنی قمیص عطا فرمائی تا کہ وہ اسے یہ قمیص بطور کفن پہنا دے اور پھر خود جا کر مع دیگر صحابہ کے اس کا جنازہ پڑھا۔( ممانعت جنازہ کا حکم بعد میں نازل ہوا) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اشد ترین منافق کے ساتھ جو برتاؤ کیا وہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ اسلام میں منافقین کے لئے قتل کی سزا مقر نہیں ہے۔غرض جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہر ہوتا ہے کہ منافقین کے لئے اسلام قتل کی سزا مقرر نہیں کرتا اور تاریخ سے ثابت ہے کہ منافقین کو قتل کی سزا نہیں دی جاتی تھی حالانکہ قرآن شریف منافقین کو بھی مرتد قرار دیتا ہے اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ مرتدین کے لئے اسلام میں قتل کی سزا نہیں ہے۔ممکن ہے کہ کوئی صاحب یہ سوال کریں کہ اگر منافقین کے لئے قتل کا حکم نہیں تو اس آیت شریف کے کیا معنے ہیں۔يَايُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاوِيهُمْ جَهَنَّمُ وَبِسَ الْمَصِيرُ (التوبة : 73) : کہ اے نبی ! کفار اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی سے حملہ کرو۔ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ رہنے کے لحاظ سے بہت بُری جگہ ہے۔“ اس آیت کریمہ کی تفسیر کے لئے میرے خیال میں فتح البیان کی مندرجہ ذیل عبارت کافی ہے۔وقال الطبرى أولى الاقوال الى قول ابن مسعود لان الجهاد عبارة