قتل مرتد اور اسلام — Page 50
50 ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔لوگوں کو راہ خدا سے روکتے ہیں۔نہایت ہی برے کام ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔اس لئے کہ یہ لوگ پہلے ایمان لائے پھر اسلام سے پھر گئے یہاں تک کہ ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی تو اب یہ حق بات کو سمجھتے ہی نہیں۔“ پھر منافقین کی نسبت اللہ تعالیٰ یہی نہیں فرما تا کہ یہ لوگ ایمان اور اسلام لانے کے بعد پھر کافر ہو گئے بلکہ ان کی نسبت خودارتداد کا لفظ بھی استعمال فرماتا ہے۔چنانچہ آتا ہے:۔إِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَنُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللهُ ستطيعكُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ وَاللهُ يَعْلَمُ إِسْرَارَهُمْ (محمد: 27،26) " بے شک جن لوگوں کو دین کا رستہ صاف طور پر معلوم ہوا اور پھر بھی وہ اپنے الٹے پاؤں پھر گئے شیطان نے ان کو مبتے دیئے اور ان کی آرزوؤں کی رسیاں دراز کردی ہیں اور یہ ان لوگوں کا ارتداد اس سبب سے ہے کہ جولوگ ( قرآن کو ) جو خدا نے اُتارا نا پسند کرتے ہیں ( مثلاً یہود ) یہ منافق ان سے کہا کرتے ہیں کہ بعض باتوں میں ہم تمہاری صلاح پر چلیں گے اور اللہ ان کی سرگوشیوں کو خوب جانتا ہے۔“ غرض منافقین کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرتے ہیں اور ارتداد کے مرتکب ہوتے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ مرتد قرار دے ان کے ارتداد میں کیا شک ہوسکتا ہے۔اب اگر یہ بات درست ہے کہ اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرنے والوں اور ارتداد کر نے والوں کی سزا اسلام میں قتل مقرر کی گئی ہے تو ضروری ہے کہ منافقین کی سزا بھی قتل ہی ہو۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ منافقین کی سزا اسلام میں قتل مقرر کی گئی ہے تو ہم اس بات کو بڑی خوشی سے قبول کر لیں گے کہ واقعی مرتد کی سزا قتل ہے۔لیکن اگر برعکس اس کے یہ ثابت ہو کہ منافقین کی نسبت قرآن شریف قتل کا حکم نہیں دیتا اور جن لوگوں کا نفاق سب پر واضح ہو چکا تھا اور جن کے نفاق کے متعلق خدا نے گواہی دے دی تھی ان کو