قتل مرتد اور اسلام — Page 46
46 میں مبتلا ہوں گے اور اکثر کفار سے بھی زیادہ ان کو عذاب دیا جائے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النِّسَاء: 146) 66 اس میں شک نہیں کہ منافق دوزخ کے سب سے نیچے کے درجہ میں ہوں گے۔“ اللہ تعالیٰ اس کو بھی پسند نہیں فرما تا کہ منافق مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں۔چنانچہ سورۃ توبہ میں اللہ تعالیٰ منافقوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:۔فَإِن رَّجَعَكَ اللهُ إِلَى طَابِفَةٍ مِنْهُمْ فَاسْتَأْذَنُوكَ لِلْخَرُوجِ فَقُلْ أَنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَ لَنْ تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا (التوبة:83) ”اے پیغمبر! اگر خدا تم کو (جہاد پر سے) ان منافقوں کے کسی گروہ کی طرف لوٹا کر لے جائے اور پھر کبھی یہ لوگ جہاد کے لئے نکلنے کی تم سے اجازت چاہیں تو تم ان سے کہ دینا کہ تم نہ تو کبھی میرے ساتھ جہاد کے لئے نکلو گے اور نہ میرے ساتھ ہوکر کسی دشمن سے لڑو گے۔“ دیتا ہے:۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ منافقین کے گروہ کو اطلاع قُلْ أَنْفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا أَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْمًا فسِقِينَ وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقْتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُم كَفَرُوْا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إِلَّا وَهُمْ كَسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كُرِهُونَ (التوبة 54،53) ے پیغمبر! ان لوگوں سے کہو کہ تم خوش دلی سے خرچ کرو یا بے دلی سے تمہاری خیرات تو کسی طرح قبول ہونی نہیں کیونکہ تم نا فرمان لوگ ہو اور ان کی خیرات کے قبول ہونے کی