قتل مرتد اور اسلام — Page 23
23 دوسروں کی گمراہی کے ہم جواب دہ نہیں قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر ہم اپنا فرض تبلیغ ادا کر چکیں اور پھر بھی کوئی نہ مانے تو ہم بری الذمہ ہیں، ہم ایسے لوگوں کی گمراہی کے ذمہ دار نہیں۔اللہ تعالیٰ سورۃ مائدۃ میں فرماتا ہے:۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إذَا اهْتَدَيْتُمْ (المائدة: 106) مسلمانو! تم اپنی خبر رکھو۔جب تم راہ راست پر ہو تو کوئی بھی گمراہ ہو ا کرے اس کا گمراہ ہونا تم کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔اسی طرح فرماتا ہے :۔مَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى (بنی اسراء يل: 16) جو شخص سیدھے رستہ پر چلا تو اپنے ہی فائدہ کے لئے سیدھے رستہ پر چلتا ہے اور جو بھٹکا تو اس کے بھٹکنے کا خمیازہ بھی اسی کو بھگتنا پڑے گا اور کوئی متنفس کسی دوسرے تنفس کے بارکو اپنے اوپر نہیں اٹھاتا۔جب ہم سے گمراہ ہونے والوں کے متعلق کوئی باز پرس نہیں ہوگی بشرطیکہ ہم امر بالمعروف پر عمل کرتے رہیں تو پھر ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو مجبور کریں کہ وہ بہر حال ہماری رائے کے ساتھ اتفاق کریں اور انکار کی صورت میں ہم ان کو قتل کر دیں۔قرآن شریف حکم دیتا ہے کہ نہ ماننے والوں سے اعراض کرو مخالف کہتا ہے کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ نہ ماننے والوں کو قتل کرو مگر قرآن شریف