قتل مرتد اور اسلام — Page 175
175 کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام حدیبیہ میں مشرکین مکہ کے ساتھ صلح کی صلح حدیبیہ کی حدیث میں لکھا ہے۔صالح النبي صلى الله عليه وسلم المشركين يوم الحديبية على ثلاثة اشياء على من اتاه من المشركين رده اليهم ومن اتاهم من المسلمين لم يردّوه۔بخاری) مطبوعه مصر جلد 2 صفحه 76) براء بن عازب سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن مشرکین کے ساتھ تین باتوں پر صلح کی۔پہلی شرط یہ تھی کہ اگر مشرکین سے کوئی شخص مسلمان ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے تو آپ اس کو مشرکین کی طرف واپس کر دیں گے۔دوسری شرط یہ تھی کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص مرتد ہو کر مشرکین کی طرف چلا جائے تو مشرکین اس کو آپ کی طرف واپس نہیں کریں گے۔اس صلح نامہ کی دوسری شرط سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ مرتد کے لئے کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی کیونکہ اگر ارتداد کے لئے شریعت اسلام میں یہ سزا مقرر ہوتی کہ اس کو قتل کیا جائے تو شرعی حد کے معاملہ میں کبھی مشرکین کی بات قبول نہ فرماتے۔اس صلح کی نسبت خود خدا تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ اس کے شرائط تقویٰ پر مبنی تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَ أَهْلَهَا وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الفتح:27) اس وقت کو یاد کرو جبکہ کافروں نے اپنے دلوں میں ایسی جذبہ داری کی روح پھونکی جو جاہلیت کی جنبہ داری کی روح تھی۔اس پر اللہ نے اپنی طرف سے نازل ہونے والی سکینت اپنے رسول کے دل پر اور مومنوں کے دل پر اُتار دی اور تقویٰ کے طریق پران کے قدم کو مضبوط کر دیا اور وہی اس کے زیادہ مستحق تھے اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر