قتل مرتد اور اسلام — Page 151
151 نہیں کہلا تا یا یہ کہ جبر سے کسی کو اسلام میں داخل نہیں کرنا چاہیئے۔اب میں اس آیت کریمہ کے متعلق دو اور روایتیں نقل کرتا ہوں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کے یہ معنے نہیں سمجھتے تھے کہ دین کے لئے جبر کرنا جائز ہے بلکہ ان کے نزدیک بھی اس آیت کریمہ کے یہی معنے تھے کہ جبر سے کسی شخص کو دین میں داخل نہیں کرنا چاہئیے۔(۱) اخرج سعيد ابن منصور و ابن ابی شیبه و ابن المنذر وابن ابى حاتم عن وسق الرومى قال كنت مملوكًا لعمر بن الخطاب فكان يقول لي اسلم فانك لو اسلمت استعنت بك على امانة المسلمين فانى لا استعين على امانتهم بمن ليس منهم فابيت عليه فقال لى لا اكراه في الدین (در منثور جلد ا صفحه ۲۳۰) وسق رومی کہتا ہے کہ میں حضرت عمر بن الخطاب کے پاس غلام تھا۔آپ مجھے فرمایا کرتے تھے کہ تو مسلمان ہو جاتا کہ مسلمانوں کے معاملات میں جو میرے سپرد ہیں تجھ سے مدد لے سکوں۔میں ایسے امور میں ایسے شخص سے مدد لینا نہیں چاہتا جو مسلمان نہ ہو۔میں نے مسلمان ہونے سے انکار کیا۔آپ نے فرمایا لا اکراہ فی الدین۔(۲) اخرج النحاس عن اسلم سمعت عمر بن الخطاب يقول لعجوز نصرانية اسلمى تسلمى۔فابت۔فقال عمر اللهم اشهد۔ثم تلالَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔“ اسلم کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سناوہ ایک نصرانی بڑھیا کو کہہ رہے تھے کہ مسلمان ہو جاؤ۔خدا تعالیٰ تمہیں بچالے گا۔اس نے انکار کیا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اے اللہ گواہ رہ۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی لا اکراہ فی الدین۔اب میں بعض مفسروں کا قول نقل کرتا ہوں اس سے بھی امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ