قتل مرتد اور اسلام — Page 139
139 کے دست تعدی کو روکنا تمام سزاؤں کی نسبت زیادہ مناسب اور موزوں ہے کیونکہ ایسے ظالم کا لوگوں کے درمیان باقی رہنا ان کے بگاڑ کا موجب ہے اور اس کے باقی رہنے میں کسی غیر اور نفع کی کوئی امید نہیں ہوسکتی۔پس اگر وہ اپنے شر کو روک لے اور اپنی زبان کو بند کر لے اور تکلیف دہی سے باز آجائے اور ذلت اور رسوائی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کا اپنے اوپر جاری کرنا اور جزیہ کا ادا کرنا اختیار کر لے تو مسلمانوں کے لئے اس کا ان کے درمیان باقی رہنا کسی قسم کے نقصان کا موجب نہیں ہوگا۔پس وہ دنیا میں اپنی زندگی تک فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اپنے مقاصد کو حاصل کر سکتا ہے۔“ مندرجہ بالا عبارت میں کھلے طور پر یہ امر بیان کیا گیا ہے کہ صرف ارتداد اور تنہا ارتداد کی سزا قتل نہیں۔اگر ایک شخص اسلام سے ارتداد اختیار کرتا ہے اور کسی شر کا ارتکاب نہیں کرتا اور اپنی زبان کو اسلام پر طعنہ زنی کرنے سے روکے رکھتا ہے تو ایسا شخص قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ ایک ذمی کی حیثیت میں اسلامی سلطنت کے ماتحت امن و امان سے زندگی بسر کر سکتا ہے اور اس کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے ذمیوں کو حاصل ہیں یعنی اسلامی سلطنت اس کے مال اور جان اور عزت کی اسی طرح حفاظت کرے گی جس طرح کہ دوسری رعایا کی حفاظت کرتی ہے۔محض مرتد قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ وہی مرند قتل کیا جائے گا جو طعن فی الدین کرتا ہے اور اپنے شر سے مسلمانوں کو ایذا دیتا ہے۔مرتد اپنے ارتداد کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اپنے شر اور طعن فی الدین اور ایذاء المومنین کی پاداش میں موت کی سزا پائے گا۔پس معلوم ہوا کہ نفس ارتداد مستوجب قتل نہیں۔مرتد ہو کر ایک انسان اسلامی سلطنت کے ماتحت امن و امان سے اپنی زندگی بسر کر سکتا ہے۔سزا صرف اس صورت میں دی جائے گی کہ وہ مرتد ہونے کے بعد طعن فی الدین کرے اور اپنے شر سے مسلمانوں کو اذیت پہنچائے۔اب مولوی شبیر احمد صاحب خود ہی اپنے گریبان میں منہ ڈال کر بتائیں