قندیل صداقت — Page 265
Khatm-e-Nubuwat فیضان مختم نبوت Khatm-e-Nubuwat تحذير الناس مطابق کے زمانہ کے بعد اور آپ رہی ہیں۔مگر اہل فہم پر روشن ہو گا نہ کہئے اور اس الج میں ولکن رسول نائیت باعتبار آخر زمانی میری ہو سکتی ہے۔کم مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام۔کسی کو بیبات گوارہ نہ ہوئی کہ انہیں ایک تو خدا کی جانب نعوذ باللہ زیادہ گوئی کا وہم ہے آخر اس وصف میں اور قد و قامت و شکل در رنگ و حسب و نسب و سکونت و غیره اوصاف ہیں جن کو نبوت یا اور فضائل میں کچھ دخل نہیں کیا فرق ہے جو اس کو ذکر کیا اور دل کو ذکر نہ کیا۔دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب نقصان قدر کا احتمال کیونکہ اہلی کمال کے کمالات ذکر کیا کرتے ہیں یا عتبار نہ ہو تو تاریخوں کو دیکھ لیجئے۔باقی یہ احتمال کہ یہ دین آخری دین تھا اس لیئے سد باب انسان مدعیان نبوت کیا ہے جو کل : جھوٹے دعوی کر کے خلائق کو گمراہ کریں گے۔البتہ فی حد ذاته قابل لحاظ ہے پر تبلیہ مالیات محمد ابا احد من رجا لکھو اور حملہ ولکن ترسُولُ اللهِ وَخاتم النَّبِيِّينَ میں کیا تناسب تھا۔جو ایک دوسرے پر عطف کیا اور ایک مستدرک مینہ اور دوسرے کو استند بہ اک قرار دیا۔اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی بے ربطی اور لیے ارتباطی خدا کے کلام منجز نظام میں منصور نہیں اگر سد باب مذکور منظور ہی تھا تو اس کے لئے اور بلیوں موقعے تھے۔بلکہ بنا رضا قمیت اور بات پر ہے جس سے تاخیر پانی اور سترہ باب مذکورہ خود بخود لازم آجاتا ہے۔اور افضلیت نبوی دوبالا ہو جاتی ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہو جاتا ہے جیسے موصوف بالعرض کا وصف بالعرض کا وصف موصوف بالذات سے مکتسب ہوتا ہے موصوف بالذات کا وصف جس کا ذاتی ہونا اور غیر منتسب من الغیر ہونا لفظ بالذات ہی سے مفہوم سے کسی غیر سے مکتب اور استعار نہیں ہو نا مثال در کار ہو تو بیٹے زمین و کسانہ اور در و دیوار کا نور اگر آفتاب کا فیض ہے تو آفتاب کا نور کسی اور کا فیض نہیں اور ہماری عرض وصف م اور ایسے ایسے لوگوں کے اس قسم کے احوال بیان کرنے میں نہ 265