قندیل صداقت — Page 183
Khatm-e-Nubuwat فیضان ختم نبوت Khatm-e-Nubuwat فیضان ختم نبوت جماعت احمدیہ کے معاند طرح طرح کی جو الزام تراشیاں کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ نعوذ باللہ جماعت احمد یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین تسلیم نہیں کرتی اور امت محمدیہ کے تیرہ سو سالہ مسلک سے ہٹ کر ایک نیامذہب اختیار کر چکی ہے۔دوسرے اور بہت سے بے سر و پا الزامات کی طرح یہ الزام بھی سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمد یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین جس قوت، معرفت اور یقین کامل کے ساتھ تسلیم کرتی ہے اور کسی کو یہ بات نصیب نہیں ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:۔مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم المنسین نہیں مانتے۔یہ ہم پر افتراء عظیم ہے۔ہم جس قوت ، یقین و معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لا کھواں حصہ بھی وہ لوگ نہیں مانتے۔“ (الحکم 17 مارچ 1905) جب مخالفین جماعت کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارت پیش کی جاتی ہے تو وہ یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ اقرار محض لفظی ہے ورنہ عملاً جب مرزا صاحب نے ایک قسم کی نئی نبوت کا راستہ کھول دیا خواہ اُسے امتی نبوت کہیں یا ظلی تو آیت خاتم النبین کا انکار لازم آگیا۔وہ کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ نے ”امتی نبی“ اور ”ظلی نبی کی اصطلاحیں بنا کر نبوت جاری رکھنے کی نئی کھڑکیاں کھولی ہیں جبکہ پہلے بزرگان اسلام نبوت کو مطلقاً بند مانتے تھے اور کسی قسم کی نبوت کے بھی جاری رہنے کے قائل نہ تھے۔لیکن ادنی سی تحقیق سے اہل بصیرت پر یہ روشن ہو جائے گا کہ یہ الزام بھی محض بودا اور بے بنیاد ہے اور حقیقت سے اس کو دور کا بھی تعلق نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمد یہ آیت خاتم النبیین کی وہی تشریح کرتی ہے جو گذشتہ صلحائے امت اور علماء ربانی کرتے چلے آئے ہیں اور ان کے مسلک سے ہٹ کر کوئی نیا مسلک اختیار نہیں کیا گیا۔نیا مسلک تو خودان مخالفین احمدیت نے اختیار کیا ہے جو جماعت پر یہ الزام لگاتے ہیں۔فیصلہ کا ایک نہایت آسان اور عام فہم طریق اختیار کرتے ہوئے ہم مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مسلّمہ بزرگانِ اسلام اور اولیاء و اقطاب کی مشہور اور مستند کتب کے ایسے اقتباسات کے عکس پیش کر رہے ہیں جن میں ختم نبوت کے بارہ میں اُن کے عقیدہ کا ذکر ہے اور جن کے سطحی مطالعہ سے بھی یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے بزرگان سلف کے مسلک سے ہٹ کر کوئی نیا دین پیش نہیں کیا بلکہ وہی کچھ فرمایا جو علمائے ربانی پہلے سے کہتے چلے آئے تھے۔اس بارہ میں مزید لکھنے کی کچھ حاجت نہیں۔ہر صاحب انصاف قاری پر بات خود بخود واضح ہو جائے گی۔انصاف اور تقویٰ اختیار کرتے ہوئے ان امور پر غور فرمائیں۔183