قندیل صداقت — Page 168
Wahrhaftigkeit des Verheißenen Messias صداقت حضرت مسیح موعود The Truth of the Promised Messiah ويمر بالحربةِ فَيَقُولُ لَهَا : أَخرجى كُنُوزَكِ۔فَتَتْبَعُهُ كُنُورُها كَمَاسِيبِ النَّحْل () ( ایضاً صفحہ 2253) فيقول الدنجال : أرأيتم إن قتلت هذا تم أخييْتُهُ، أَتَشكُونَ فِي الْأَمْرِ فَيَقُولُونَ : لَا ، قَالَ مَعَهُ جِبَالَ مِنْ خَيْرِ وَلَهم ونهر من ماه ( ایضاً صفحہ 2256) ( ایضاً صفحہ 2258) ایک علامت مسیح موعود کی یہ بیان کی گئی تھی کہ اس زمانہ میں دجال کا خروج ہو گا۔چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول الله صلى الم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ:۔یعنی کوئی نبی نہیں گذرا جس نے اپنی امت کو یک چشم کذاب سے نہ ڈرایا ہو۔خبر دار ہوشیار ہو کر سُن لو کہ وہ یک چشم ہے مگر تمہارا رب یک چشم نہیں۔اس کی آنکھوں کے درمیان ک،ف، رلکھا ہو گا اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے ساتھ جنت اور نار کی امثال لائے گا۔مگر جس چیز کو وہ جنت کہے گا وہ دراصل نار ہو گی اور ایک روایت میں ہے کہ دجال خروج کر یگا اور اس کے ساتھ پانی اور آگ ہونگے مگر وہ چیز جو لوگوں کو پانی نظر آئیگی وہ دراصل جلانے والی آگ ہو گی اور وہ جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہو گا اور دجال کی ایک آنکھ بیٹھی ہوئی ہو گی اور اس پر ایک بڑا ناخنہ ساہو گا اور اس کی آنکھوں کے در میان کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ سکے گا۔خواہ وہ لکھا پڑھا ہو یا نہ ہو اور ایک روایت میں ہے کہ دجال دائیں آنکھ سے کانا ہو گا۔پس جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اس پر سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے کیونکہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات اس کے فتنے سے تم کو بچانے والی ہو گی اور ایک روایت میں ہے کہ دجال آسمان ( یعنی بادل) کو حکم دیگا کہ پانی برساتو وہ برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا تو اگائے گی اور کھنڈرات پر گذرے گا اور حکم کریگا کہ اپنے خزانے باہر نکال تو اسکے خزانے باہر نکل کر اس کے پیچھے ہو لیں گے اور ایک روایت ہے کہ دجال لوگوں سے کہے گا کہ دیکھو اگر میں اس شخص کو قتل کر دوں اور پھر زندہ کر دوں تو کیا تم میرے امر میں شک کرو گے ؟ لوگ کہیں گے۔نہیں۔پھر وہ اسے مارے گا اور پھر دوبارہ زندہ کر دے گا اور ایک روایت میں ہے کہ اس کے ساتھ ایک پہاڑ روٹیوں کا ہو گا اور ایک نہر پانی کی ہوگی اور ایک روایت میں ہے کہ دجال ایک چمکدار گدھے پر ظاہر ہو گا اور وہ گدھا ایسا ہو گا کہ اس کے دوکانوں کے درمیان ستر ہاتھ کا فاصلہ ہو گا۔“ 168