قندیل صداقت

by Other Authors

Page 266 of 318

قندیل صداقت — Page 266

Khatm-e-Nubuwat Khatm-e-Nubuwat فیضان مختم نبوت تحذیر الناس کم ۳ انصاف ذاتی بوصف نبوت لیئے جیسا کہ اس پیچد ان نے عرض کیا ہے تو پھر سوا رسول اللہ ملتم اور اور کسی کو افراد مقصود بالخلق میں سے مماثل نجومی علم نہیں کر سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کی افراد خارجی ہی پر آپکی افضلیت ثابت نہ ہوگی افراد مقدرہ پر بھی آپکی افضلیت ثابت ہو جائیگی بلکہ اگر بالفرض بعدنہ مانہ نبوی علم بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خانمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائے کہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی مین میں کوئی اور بی تجویز کیا جائے یالان نبوت اثر مذکور و دزانیت خاتمیہ ہے معارض ومخالف خاتم النبین نہیں جو یوں کہا جائے کہ یہ اثر نشاز بینے مخالفت یہ دایہ ثقات ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہوگیا ہو گا کہ حسب مزعوم منکر ان اللہ اس اثر میں کوئی علت نامعہ بھی نہیں جو اسی راہ سے انکار صحت کیجئے کیونکہ اول تو امام بیہمنی کا اس اللہ کی نسبت صحیح کہتا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کوئی علت نامعہ خفیہ قادح فی الصحہ نہیں دوسرے شندہ وہ تھا تو یہی تھا کہ مخالف جملہ تخاتم النبین ہے۔اور عادت تھی تب یہی تھی۔اگر اور کوئی آیت یا حدیث ایسی ہی میں سے سات سے کم نہ یادہ زمینوں کا ہونا انبیاء کا م میں ہونا یا نہ ہونا ثابت ہوتا تو کہ سکتے تھے کہ وجہ نہ دو یہ ہے مگر آج تک نہ کسی نے ایسی آید دودیت سنی نہ مدعیون نے پیش کی ملے ہذا القیاس مضمون علت قادحہ کو خیال فرمائے آج تک سوار مخالفت مضمون مذکور کسی نے کوئی وجیہ فارح فی الا لہ المذکور ہیں نہیں کی اور فقط احتمال بے دلیل اس باب میں کافی نہیں دور نہ بخاری ومسلم کی حدیثیتیں بھی اس حساب سے شاذو معال ہو جائیں گی۔اور نیز یہ بھی واضح ہو گیا ہوگا کہ یہ تا دی کہ یہ التمر اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔یا انبیا را راضی ما تحت سے مبلغان احکام مراد ہیں پرگنہ قابل التفات نہیں وجیہ اس کی یہ ہے کہ باعث تاویلات مذکورہ فقط یہی مخالفت انہیں خاتمیت تھی۔جب مخالفت بھی تو ایسی تاویلیں کیوں کیجئے جن مدلول منے مطابقی سے کچھ علاقہ ہی نہیں پاتی رہی یہ بات کہ بڑوں کی تاویل کو نہ مانے تو ان کی تحقیر تعوز باللہ لانہم آئے گی۔یہ انہیں لوگوں کے خیال میں آسکتی ہے جو بڑوں کی بات فقط انہ راہ بے ادبی نہیں مانا کہ ہے۔ایسے لوگ اگر ایسا سمجھیں تو بجا ہے المر یقیں علی تحذیر الناس، صفحہ 4, 34,5) 266