قندیل صداقت

by Other Authors

Page 261 of 318

قندیل صداقت — Page 261

Khatm-e-Nubuwat فیضان مختم نبوت Khatm-e-Nubuwat 17 monks or in 24 SALZINGEN پیس ثابت ہوا کہ اسکو امین عباس نے کسی بیوہ سے اخذ کیا اقول ابن بریرہ غیرہ نے اس مدینے کو یوں روایت کیا ہے تالا بن عباس نی کلا رض شل ابراہیم دنوا علی الامن من تخلق اور ابن حجر نے فتح ا ا ا ا ا ا ا دا ده چی اور امام علی الارض کا نام ایسی کیا بات میں ہو گا ورونی کنیم باعی کی کہیں یا رح کورح سے نہیں نا ہو کر طیبہ میں ایک ایک بیاندان انیار کے جمع ماست ی کی نان را روی کالا کا کیا ہوتا ہے کہ طیبہ میں کیے بنی انتدان انبیاء کے تھے اگرچہ مشابہت بعض صفات این قا ا للہ حضرت حدیث ابن عباس فعالیت قرآن پر کیونکہ حق تعالی ارشاد کرتا ہے لیکن رسول اسید و خاتم ایلین اور جراما مخالف قرآن کے باطل پر قول یہ حدیث اگر شست اس امر کے ہو کہ ہر طبقہ میں ایک ایک انبیا حضرت کے زمانے میں حسب ت ع عابد بدار بی تقتل تھا سکتے ا البتہ مخالفت ہو حال آنکہ یہ ار اس پر مستفاد ہیں پنجائز ہو کر او اخر سلاسل تحتانیہ آنحضرت کے زمانے کے قبل ہویے ں یا آنحضرت کے دامنہ میں ہو گے تبع شریعت محمدیہ ہوئے ہوں کیونا سید اختر یا زمانے میں حضت و مجبوری کی ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شریع جدید بونا البتہ منع ہے چنانچہ ملا علی قاری رساله مصنوعات مین بر حدیث لوہا شابراہیم مکان بنیا کے رکھتے ہیں اگر لوعاش لكان من اتباعه کمیسی، خضر الياس لانیا تن تو اتنا خاتم البین از اعنی انہ لا یاتی لب دره نینی منسج لمتہ انتی اور حافظ ابن جر اصابہ فی احوال الصحابہ میں لکھتے ہیں استدل بعضهم على موت الخضر فقوا علیہ السلام لانبی بعدی وسط این وحيته القول في ذالک توقی بی ان بی قلعاوتیت از بین ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا لا اله وسلم ورجاله الی النفى على الشار النبوة لكل احد من الناس لاعلى لفی وجود نبی كمان تقدینی قبل ذلك انتى قال البعض۔اہل اسلام کا یہ قول ہے کہ طبقات زمین کے باہت تعمل میں اور اس اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ طبقات جود جدا ہیں پس سیار باطل ہے۔اقول اتصال طبیعات دمین مذہب علمائے بہیت کا ہے اور وہ مردو دوست ساتھ احادیث صحیحہ کے کہ دلالت کرتی ہی نفع مال پر جامع زندی میں ابو ہریرہ سے مروی ہر تال کیا ہے مع رسول ابشر فرت سحابه فقال اندرون مانده قالوالله رسول علم تا بند یو ها اسدالی اہلک لا میدونه ولایش کرد نه بل تدرون ما فوق ذالک قالوا الله ورسوله امر قال فوق ذلك موج مکلفور و سقف محفوظ اہل تدرون ما فوق ذلك قالوا اللہ و رسولہ اعلم قال فوق ذرا سا بل تدرون با فوق 261