قندیل صداقت — Page 246
Khatm-e-Nubuwat پہلا حصہ فیضان مختم نبوت 04 Khatm-e-Nubuwat چھٹا دفتر آپ نے اپنے مخالفین کے جلن میں کی تھی۔اندام سنین کے تحتی میں اس کو زرمن کر نا خلاف واقع ہے۔تو جواب یہ ہے کہ کلمات دعا میں کوئی خصوصیت کمار کی نہیں۔ہدایت کی ضرورت کفار و موسین سب کو ہے نماز میں ہر مومن دعا کرتا ہے۔اھد نام الصراط المستقيد اور قومی کا لفظ ظاہر کر رہا ہے کہ اگر اس میں مخالفین د کفار داخل ہیں تو سومین بطریق ادلی داخل ہیں۔اگر کہور دیکھوان کے معنوں میں بی تکلفٹ نہ کیا جائے ہو او پر ترجمہ میں کیا گیا ہے تو مات سیدھا ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کا دستور تھا کہ علانیہ اور خصیہ یہ دعا کرتے تھے کہ اللهم احمد الخرکار چونکہ دنیا ، آخرت کا ذکراہ پر سے ہر شعر میں بالمقابلہ چلا آرہا ہے۔اور اس سے اگلے شریں بھی یہی ذکر و تقابل موجود ہے۔لہذا بعید نہیں کہ مولانا کی مراد غور وکموں سے دنیا آخرت ہی ہو۔پس یہ کرامت ہے محل نہیں۔واللہ اعلم بالصواب ، بازگشته از دم او هر دو یابی در دو عالم دعوت او مستجاب - دوسرے مصرعہ میں کلمہ دریا و ظرفیہ ہے یا الیہ لہزار بچہ در طرح ہو سکتا ہے اور مطلب بھی دو طرح ترجمہ : آپ کی دعا سے ادنیاو آخرت کے دونوں دروازے کھل گئے۔دونوں جہاں میں آپ کی دعا مقبول ہے ریا یوں کہو کہ دونوں جہانوں کے بارے میں آپ کی دُعا مقبول ہے ؟ مطلب: دونوں جہانوں میں آپ کی دعا مقبول ہونے کا مطلب پہلی تقدیر پر یہ ہے کہ دنیا میں جب آپ نے اُمت کی ہدایت کے لئے دعا کی تو وہ مقبول ہو گئی۔اور جب آخرت میں ان کی نجات کے لئے دعا کریں گے تو وہ بھی مقبول ہو۔جائے گی۔جیسے کہ احادیث اس پر شاہد ہیں۔دوسری تقدیر پہ یہ مطلب ہے کہ است آن دنیوی و اخری سودی کے لئے آپ نے جودھا کی مقبول ہو گئی انتباه : مفتاح العلوم کی پہلی جلد جب اطرافت ایک میں شائع ہوئی۔اور ہرطبقہ جماعت کے ارگوں کر اس کے مطالعہ کا موقعہ ملا۔تو ایک دوست نے راقمہ کو ایک شام نہ سکے متعلق لکھنا کہ شنودی کے اس شر اور اس کی شرح سے جو آپ نے لکھی ہے۔مرزائی لوگ ختم نبوت کے غلات سند کہلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو تمہا سے کرانا بھی اپنی شرح میں لیست تیم کرتے ہیں کہ ساسان شورت ختم نہیں ہوا۔وہ شعر یہ ہے ہے شعارها با ویران گردان بود شعله ای جان کے درہم کمان بود شاہ آن جائی یہ شر بادشاہ عبور دیگر کی حکایت کے آغاز میں ہے۔ہر چند کہ اس شہر اور اس کی شرح سے مرند ایک قادیانیہ کا اپنے مذہب پر استدلال کرنا ان کی کم بھی ہے۔تاہم عوالم کی غلط فہمی رفع کرنے کیلئے تیسرے ایڈیشن میں اس مقام کو اور واضح کر دیا گیا ہمیں تعجب آتا ہے۔ان لوگوں کی ستم ظریفی پر جو ایک محنت کے مسلہ مشہور عقیدہ اور اس کے واضح و روشن مسالک کے خلاف کوئی بہت اپنے رہب کی تائید میں مستنباط کرنے لگتے ہیں حقیقت میں یہ لگ جس طرح خدا سے شرم کرنے میں بے نیاز ہیں۔اسی طرح دنیا کی شرم سے بھی مستفتی ہیں۔اب قادیانیہ کی چلہ ہے۔کہ شرعی کے ان اشعار میں ہم آ گئے آتے ہیں۔ہے معلوم کرلیں کہ مولانا کا عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں کیا ہے بهر این خانم شاداست او که بود مثل اونے بود نے خواهند بود این ترجمہ۔آپ تم را نہیں، اسی لئے ہوتے ہیں کہ فیض رسانی میں نہ کوئی آپ کا انشل ہوا۔اور نہ تآئندہ آپ کی شکل، ہوں گے 246