قندیل صداقت — Page 258
Khatm-e-Nubuwat فیضان مختم نبوت Khatm-e-Nubuwat کیا جاوے میں سے صریح نقصان عقل نا قبل نقل نہ کو معلوم ہوتا ہے تو ایک مستقل کتاب بنتی ہے مگر میں نے بنوائے قول خدا خذ العفور أمر بالفرن واعر من عن المجاملين اوس سے اعراض کیا یہ قول اس فائل کا باطل ہے بلکہ کفر ہے حدیث کا دمی بعد موتی ہے اصل سے جان لا نبی بعدی آیا ہے اپنی تصنیف میں صراحت کی ہے اسبات کی کہ پیسے علیہ السلام تارے ہی نبی کی شریعت کا حکم دین نے قرآن و حدیث کے رویے اس سے یہ امر راج سجھا جاتا ہے کو وہ سنت کو جناب نبوت سے بطریق مشافہ کے بغیر کسی واسطہ کے با بطریق وحی والہام کے حاصل کرینگے ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جب انہوں نے بہت عد تین روایت کرنا شروع کیا اور لوگوں نے اہرا انکار کیا تو رو بخون سے کہ اگر جیسے بن مریم میرے مرنے سے پہلے اور ری اور میں اونکو حدیث کی روایت کرون رسول خدا صلح سے تو وہ میری تصدیق کریں گے تہ دلیل ہے اس بات پر ه و عالم من عاد منت نبی علم کے ہونگے ان کو اس کی حاجت ہوگی کہ وہ سنت کو کسی اسی سے اخذ کر ان یہانتک کہ ابوہرہ جنہوں نے خود جناب رسالت سے احادیث کو سنا ہے وہ بھی محتاج اون کی تصدیق کے ہیں انہی میں کہتا ہوں اس نگاہ ی کیا ضرورت ہے کہ وہ بلاواسطہ امانت کو شناخت حاصل کریں گے کوئی حدیث ہے اس باب میں گر نے تو تو یہ بات ٹھیک ہے۔ورنہ قرآن و کتب سمعت جو آج و میں موجود این اور قیامت کے بانی رانگی در یافت کم خدا و رسول کے لئے ہو: ہیں انکے ہوتے ہوئے باین سند متصل مرفوع ضرورت الرد بالمثانہ کی کیاست مانہ ہی اگر ثابت ہو تو عالم مثال یا ارواح میں ہو سکتا ہے اس عالم میں ہر دلیل کیا ان یہ بات اور نشہ کو اون کو روجی آدین سراج حدیث نواس بن سمارت 258