قندیل صداقت

by Other Authors

Page 21 of 318

قندیل صداقت — Page 21

Frage des Todes Jesu Christi مسئلہ وفات مسیح ناصری Death issue of Jesus Christ مسئله وفات مسیح ناصری مسئلہ وفات مسیح ناصری کو تین لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے۔اوّل اس لحاظ سے کہ اس وقت دنیا کا بیشتر حصہ عیسائی مذہب کا پیرو ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح ناصری کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہوئے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ اس دنیا میں چند سال زندگی گزارنے کے بعد پھر آسمان پر واپس چلے گئے اور وہاں زندہ موجود ہیں اور نعوذ باللہ خدا کی ازلی حکومت کے حصہ دار ہیں۔دوسرے اس لحاظ سے کہ عیسائیوں کے اس عقیدہ سے خاموش طور پر متاثر ہو کر اور بعض قرآنی آیات اور احادیث کی غلط تشریح کر کے اس زمانے کے جمہور مسلمان بھی اس خیال پر قائم ہو گئے ہیں کہ گو حضرت عیسی خدایا خدا کا بیٹا تو نہیں تھے بلکہ صرف خدا کے ایک نبی تھے مگر صلیب کے واقعہ پر خدا نے انہیں بجسم عنصری زندہ آسمان پر اُٹھالیا تھا اور وہ اب تک آسمان پر زندہ موجو د ہیں اور آخری زمانہ میں دوبارہ زمین پر نازل ہو کر امت محمدیہ کی اصلاح کریں گے۔تیسرے اس لحاظ سے کہ چونکہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے اس لئے جب تک حضرت مسیح ناصری کی وفات و حیات کے عقیدہ کا فیصلہ نہ ہو کوئی مسلمان حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ مسیحیت کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں کر سکتا۔ان تین وجوہات کی وجہ سے ضروری ہے کہ قرآن و حدیث اور عقل خداداد کی روشنی میں اس مسئلہ کو حل کر کے مخلوقِ خدا کی ہدایت کا سامان مہیا کیا جائے اور عیسائیت کے مقابلے میں اسلام کا بول بالا ہو۔تیرھویں صدی ہجری میں مسلمانوں میں رائج اس عقیدہ حیات مسیح کا سہارا لے کر عیسائی پادریوں نے سادہ لوح مسلمانوں کو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں عیسائی بنایا۔ہندوستان کے علاقوں کے علاقے ان پادریوں نے فتح کرنے کے دعوے کئے۔حتی کہ خاص خانہ کعبہ پر یسوع مسیح کا جھنڈ الہرانے کے عزم کا اعلان بھی کیا۔اس سیلاب کا سد باب کرنے کے لئے کسی بڑے سے بڑے مسلمان عالم یارا ہنما کے پاس کچھ بھی تو نہ تھا۔اور بڑھتے ہوئے اس سیلاب کے سامنے اگر کوئی سد سکندری بنا تو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کا وجو د تھا۔جن کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے وفات مسیح کا ایسا کار گر ہتھیار تھایا تھا۔چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے عیسائیت کا بڑھتا ہو الشکر پسپا ہونے لگا اور بالآخر اسلام کے حق میں وہ انقلاب آیا، جس نے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا اور اس فتح مبین کا تذکرہ غیروں نے بھی کیا اور یہ اقرار بھی کہ یہ ساری مہم وفات مسیح کے ذریعہ طے ہوئی۔پس مسئلہ وفات مسیح ناصری جماعت احمدیہ کے لئے ہی نہیں بلکہ ساری اُمت مسلمہ کے لئے ایک بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔اس 21