قندیل ہدایت — Page 973
973 of 1460 28 گلدستہ کرامات AREER و اگر کان نہ ہو جائین اور شاخدای درختان بنت اقلیم سے اگر قطار بن جائین اور مون تحریر کنندہ انکے کل مخلوق جن و انسان ملک دوش ویر تو جیک قاصر جون اور عاجز آجائیں اسکی تحریر سے اور جناب شیخ عبدا تھی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کرامات اور خوارق عادات حضرت حوث الا عظم کے بیشمار اور بے نہایت مین جیسے کہ تجھے معجزات آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لا تعد ولا تھے اور جیسے کہ آن جناب رسالت آب صلی اللہ علیہ و سلم تھے بنی الفت مین دیسے ہی تھے آن جنابے کی انتکلمین محبوب الہی بلکہ شیخ الجزر وانکل اور جیسے کہ جناب پیغمبر علیہ صلوات الملک الاکبر روز میشاق سے مرسل ہوئے اور فرمایا کہ کنت بیا دادم بين الماء والطين ویسے ہی آن جناب فیضہ آب رود وشاق سے دلی کیے گئے اور کتاب مناقب معراجیہ میں درج ہو کہ جیسے کہ میں پڑھتی تھی تھی جسم مبارک خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم پہ دیسے ہی دور رہتی تھی لکھی بدن شریعت حضرت عالی در تبت سے اور جیسے کہ عرق در نور غرق جناب رسول مقبول علیہ الصلوة والسلام کا ہوتا تھا معطر خوشبو مشک اور قطر سے ویسے ہی معطر تھا عرق جسم آن چناب کر امت آب رضی اللہ تعالی عنہ کا اور جیسے کہ کھا جاتی تھی زمین بول اور غائکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا اسیطرح کسی شخص نے بول اور نا کہ آن جناب کا بھی پر دیا زمین پر دیکھا اور اکثر فرمایا کرتے تھے حضرت رضی اللہ عنہ کہ بیا و جو د جدی محمد صلی اللہ علیہ مسلم لا وجود عبد القادر پس یہ کلام معرفت التیام آنحضرت کے دلالت کرتے ہیں اور پر قیاسے اتم اور م کامل آن جنا کے پیج ذات با برکات انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ از راه فردا عشق و محبت ذات مر ذات ہو کر فنا فی الرسول ہو گئے تھے ذاتا وصفاتنا قولا وفعلا حالا وكما لا کہ یہ رتبہ سوائے ذات غوثیہ کے کسی اور اہل ولایت کو حاصل نہیں ہو سپس ثابت ہوا کہ رتبہ حضرت غوث الاعظم کا سائر اولیا اللہ سے اعلیٰ اور ملین تر ہو پیش مریدان با ارادت اور مفت دان با اعتقاد آن جناب کو فرض عین نمو که محبت آن جناب کی دل محبت منزل میں ایسی کھین کسوہ محبت زان و فرزنما اور خویش را قربا سے فائق ہوا رنگینه دل مین نقش اسم مبارک گفت کا