قندیل ہدایت — Page 824
824 of 1460 کیا جاوے جس سے صریح نقصان عقل ناقل نقل نہ کو معلوم ہوتا ہے تو ایک ستقل کتاب بنتی ہے مگر مین نے بنجو اسے قول خدا خذ العفوان أمر بالعرف واع ض عن الجاهلين اوس سے اعراض کیا نیہ قول اس قائل کا باطل ہے بلکہ کفر ہے حدیث لا وحی بعد موتی بے اصل ہے بان لا نبی بعدی آیا ہے اسکے معنی نزدیک اہل علم کے بعد بین کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہ لا دیا شبکی نے اپنی تصنیف میں صراحت کی ہے اسبات کی کہ جیسے علیہ السلام ہمارے ہی نبی کی شریعت کا حکم دینگے قرآن وحدیث کی رو سے اس سے یہ امر رایج سمجھا جاتا ہے کہ وہ سنت کو جناب نبوت سے بطریق مشافہ کے بغیر کسی واسطہ کے با بطریق وحی ور الہام کے حاصل کرینگے ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جب انہون نے بہت حدیثیین روایت کرنا شروع کیا اور لوگوں نے اوپنر انکار کیا تو انہو نے کہا اگر جیسے بن مریم میرے مرنے سے پہلے اورترین اور مین ابن کو حدیث کی - وایت کردن رسول ضا طلا سے تو وہ میری تصدیق کرینگے یہ دلیل ہے اس بات پر کہ وہ عالم جمیع علوم ست بنی لا کے ہونگے ان کو اسکی حاجت ہوگی کہ دوست کو کسی امتی سے اخذ کرین بیانتک کہ ابو ہریرہ جہنوں نے خود جناب رسالت سے بھارت کو سنا ہے وہ بھی محتاج اور نکی تصدیق کے ہین انتئے میں کہتا ہوں اس تکلیف کی کیا ضرورت ہے کہ وہ بلا واسطہ علم سنت کو مشافہہ حاصل کرینگے کوئی حدیث صحیح اس باب میں اگر ہے تو تو یہ بات ٹھیک ہے ورنہ قرآن و کتب سنت جو آج دنیا مین موجود مین اور قیامت تک باقی رہنگی دریافت حکم خداور سول کے لئے کافی مین انکے ہوتے ہوئے پاین سند تعقل مرفوع ضرورت اخذ بالمثانہ کی کیا ہے یہ مشافہ یہی اگر ثابت ہو تو عالم مثال یا ارواح مین ہوسکتا ہے نہ اس عالم مین پر سپر ولنا کیا بات کہ بات اور ہے کہ ان کو وحی آو مگر جسطرح حدیث نواس را جمعان من