قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 301 of 1460

قندیل ہدایت — Page 301

301 of 1460 www۔kitabosunnat۔com د مفردات القرآن - جلد 1 342 وَمَا مُحَمَّدٌ الأَرَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پاک میں ہے: ﴿وَانَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (۴۶۸) اور اخلاق (۳-۱۴۴) اور محمد ملنے ہم تو صرف خدا کے پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر گزرے ہیں۔تمہارے بہت (عالی) ہیں۔الْخَلاقُ: وہ فضیلت جو انسان اپنے اخلاق سے حاصل وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثْلَاثُ ﴾ (۱۳-۲) ور حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع ) ہو چکے ہیں۔چکی۔کرتا ہے۔قرآن میں ہے: ﴿وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلاَقِ) (۲۰۰۲) ایسے تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ) (۲-۱۳۴) یہ جماعت گذر لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔فُلَانٌ خَلِيْقٌ بِكَذا: فلاں اس کا اہل ہے گویا وہ خوبی و قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ ﴾ (۱۳۷۳) تم اس میں پیدا کی گئی ہے۔جیسا کہ فُلانٌ مَجْبُولٌ عَلَى لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گذر چکے ہیں۔إلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (۳۵-۲۴) مگر اس میں كذَا وَمَدْعُو اللَّهِ مِنْ جِهَةِ الْخَلْقِ کا محاورہ ہے۔خَلَقَ الثَّوبُ وَاخْلَقَ : کپڑے کا پرانا ہو جانا اور پرانے کپڑے کو خَلَقٌ وَمُخَلَقٌ وَاَخلاق کہا جاتا ہے ہدایت کرنے والا گذر چکا ہے۔جیسا کہ حَبْلُ اَرْمَامَ وَاَرْمَات کا محاورہ ہے اور کپڑے مَثَلُ الَّذِينَ خَلُوا مِنْ قَبْلِكُمْ (۲-۲۱۴) تم ﴾ کے پرانا ہونے سے ملائم اور چکنا ہونے کا معنیٰ لیا جاتا کو پہلے لوگوں کی سی۔وَالَ خَلَوْ مَضُوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ - ہے۔چنانچہ کہا جاتا ہے۔جَبَلْ أَخْلَقُ وَصَخَرَةٌ خَلْقَاءُ: چکنا پہاڑ یا چکنا پھر۔الغيظ ) (۳۔۱۱۹) اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر خَلَقْتُ الثّوبَ: میں نے کپڑے کو پرانا کیا۔اخلو لق غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔اور آیت السَّحَابُ أَنْ تُمطِرَ : امید ہے کہ بارش ہوگی۔کریمہ: يه التَّوْبَ یہ یاتو خَلَقْتُ النوب سے ماخوذ ہے اور یاهو خَلِيقٌ يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ آيَكُمْ ) (۱۳-۹) پھر با کی بگذا کے محاورہ سے لیا گیا ہے۔الْخَلُوقُ: ایک قسم کا خوشبو۔خل و توجہ تمہاری طرف ہو جائے گی۔کے معنی یہ ہیں کہ پھر تمہارے ابا کی محبت اور توجہ صرف تمہارے ہی لئے رہ جائے گی۔الْخَلاءُ : خالی جگہ جہاں عمارت و مکان وغیرہ نہ ہو خَلَا الْإِنْسَانُ: تنہا ہونا۔خَلَا فُلانٌ بِفلان کسی کے اور الخُلُو کا لفظ زمان و مکان دونوں کے لئے استعمال ساتھ تنہا ہونا۔ہوتا ہے۔چونکہ زمانہ میں مضی ( گذرنا) کا مفہوم پایا خَلا اليه: کسی کے پاس خلوت میں پہنچنا۔قرآن پاک جاتا ہے۔اس لئے اہل لغت خلا الزَّمَانُ کے معنی میں ہے: زمانہ گذر گیا کر لیتے ہیں۔قرآن پاک میں ہے: ﴿وَاذَا خَلَوْا إِلى شَيَاطِينِهِمْ (۱۴۲) اور جب محکم دلائل وبراہین سے مزین متنوع و منفرد موضوعات پر مشتمل مفت آن لائن مکتبہ