قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 230 of 1460

قندیل ہدایت — Page 230

230 of 1460 www۔kitabosunnat۔com مفردات القرآن۔جلد 1 وخَافِضَةٌ رَافِعَةٌ﴾ (۵۶-۳) بعض کو نیچا دکھائے گی دور کرے۔434 اور بعض کو ( بلحاظ درجہ ) بلند کرے گی۔میں رجس کے دور کرنے سے عز و شرف بخشا مراد ہے ( میں زمین بھی ) رَافِعَةُ کا لفظ خافضة کے مقابلہ میں آیا اور رفع کے معنی تیز رفتاری بھی آتے ہیں چنانچہ کہا جاتا ہے جس سے مفہوم ہوتا ہے کہ رفع بلحاظ درجات مراد ہے: رَفَعَ الْبَعِيرُ فِی سَیرِم: اونٹ تیز رفتاری سے چلا اَرْفَعْتُه أَنا میں نے اسے تیز چلایا بعير مرفوع الحمد ہے۔اور آیت: وَالىَ السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ (۱۸۸۸) اور السیر: تیز رفتار اونٹ۔اور رفع کے معنی کسی کے راز کو آسمان کی طرف ( نہیں دیکھتے ) کہ کیسا اونچا بنایا۔فاش کرنا بھی آتے ہیں جیسے رَفَعَ فُلانٌ عَلَى میں دونوں قسم کی بلندی کی طرف اشارہ ہے یعنی بلندی فلان میں نے اس سے پردہ اٹھا دیا یعنی اس کے راز کو بلحاظ محل اور بلندی بلحاظ شرف ومنزلت اور آیت و فرش فاش کر دیا اور دفاعة اس چھوٹی سی گدی کو کہتے ہیں جسے مرْفُوعَةٍ (۳۴:۵۶) اور اونچے اونچے فرش میں فرش عورتیں اپنی سرین پر باندھ لیتی ہیں تاکہ وہ بڑی معلوم کی بلندی سے ان کے عمدہ اور نفیس ہونے کی طرف اشارہ ہوں۔ہے۔اسی طرح آیت: _^) (رق ق) الرّقَةُ : (بار یکی ) اور دِقةٌ کے ایک ہی معنی ہیں۔فِي صُحُفِ مُكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ (۸- ۱۳ ۱۴) ان اوراق میں (لکھا ہوا ہے) جن کی تعظیم کی لیکن رقة بلحاظ کناروں کی باریکی کے استعمال ہوتا ہے اور جاتی ہے اور وہ پاکیز و اونچی جگہ پر رکھے ہوئے ہیں۔دقة بلحاظ عمق کے بولا جاتا ہے۔پھر اگر رقت کا لفظ اجسام میں بھی بلندی بلحاظ شرف و منزلت ہی مراد ہے۔اور آیت کے متعلق استعمال ہو تو اس کی ضد صفاقت آتی ہے جیسے فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ (۲۲- ثَوبٌ رَقِيق: (باریک کپڑا) اور ثوب صفیق (موٹا کپڑا) (٣٦) ایسے گھروں میں جن کی نسبت خدا نے حکم دیا ہے کہ اور دل کے متعلق استعمال ہو تو اس کی ضد قساوت اور جفاء ان کی عزت کی جائے۔آتی ہے مثلا نرم دل کے متعلق کہا جاتا ہے۔فُلان رقیق میں بھی رفع بلحاظ عز و شرف مراد ہے یعنی ان کی تعظیم کی القلب اور اس کے بالمقابل سخت دل آدمی کو قاسی جائے اور ان کے اندر کوئی نازیبا حرکت نہ کی جائے جوان الْقَلْبِ کہتے ہیں۔کے ادب واحترام کے خلاف ہو اور یہ ایسے ہی ہے جیسا الرق: کاغذ کی طرح کی کوئی چیز جس پر لکھا جائے چنانچہ که آیت قرآن پاک میں ہے: إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ فِي رَقِ مَّنشُور (۵۲-۳) (اور چوڑے چکے ) البيت (۳۳-۳۳) (اے پیغمبر کے گھر والو! خدا کا غذ پر لکھی ہوئی ( کتاب کی قسم ہے ) کو تو بس یہی منظور ہے کہ تم سے ( ہر طرح کی گندگی کو اور نہ کچھوے کو بھی دی کہا جاتا ہے۔محکم دلائل وبراہین سے مزین متنوع و منفرد موضوعات پر مشتمل مفت آن لائن مکتبہ