قندیل ہدایت — Page 140
140 of 1460 حقانی سورة ا ٢٢٦ بارة لا يحب الله ہر منکر غیب کی باتوں کی تصدیق خواہ مخواہ کرتا ہے اس میں الربوا وقد نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِم مسیح کی کیا خصوصیت اور کیا فوقیت ثابت ہوئی۔خوری سے بھی حالانکہ اس سے ان کو ممانعت کر دی گئی تھی اور اس سے دوسرا قول یہ ہے کہ ضمیر موتہ کی حضرت مسیح علیہ السلام اموال الناس بالباطل وأعتدنا کی طرف پھرتی ہے جس کے یہ معنے ہوتے کہ حضرت مسیح کی بھی کہ وہ ناحق لوگوں کے مال کھاتے تھے۔تھے۔اور ان میں سے ظالموں موت سے پہلے ان پر ہی اہل کتاب ایمان لائے گا اور اس میں للكفين مِنْهُ عَذَابًا أليما هلكن الرُّسُحُونَ اشارہ ہے کہ یہود جو سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان کو مارڈالا وہ کے لئے تو ہم نے عذاب الیم تیار رکھا ہے۔البتہ ان میں سے وہ جو علم لئے کر۔وہ پاس زندہ ہیں ان کے مرنے سے پہلے جب کہ وہ آسمان سے بھوٹے نسیم تھے سو یہ ان کا قول غلط ہے وہ ہمارے فی العلم مِنهُم وَالمُؤمِنونَ يُؤْمِنُونَ میں ثابت قدم اور مومن ہیں اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو اُتریں گے یہ منکر ایمان لائیں گے اور یہ حق ہے کہ حضرت مسیح کو دیکھ کہ ایمان لے آئیں گے اور یہ معنے اس حدیث سے ثابت بمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ جب قیامت کے قریب نازل ہوں گے اور امام مہدی بھی تم پر (اے نبی (ص) نازل ہوا اور اس پر بھی کہ جو تم سے پہلے نازل ہو چکا ہے ہوں گے سو اس وقت سوا دینِ حق کے اور کوئی دین دنیا والمُقيمينَ الصَّلوةَ وَالْمُؤْتُونَ پر غالب نہ ہو گا اس وقت یہود بھی اس جلال و شوکت اور (وہ) نماز بھی قائم کرتے ہیں اور زکوۃ بھی ہیں کہ جس کو بخاری و مسلم نے ابو ہریرہ نے سے نقل کیا ہے الزَّكَوةَ وَالمُؤمِنُونَ باللهِ وَاليَوم دیا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر کبھی ایمان کہ قیامت کے قریب عیسی ابن مریم نازل ہوں گے صلیب الأخر أوليكَ سَنُور توڑ ڈالیں گے خنزیرہ کو قتل کریں گے جزیہ موقوف کریں گے اتھے رکھتے ہیں۔ان لوگوں کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے۔پھر ابو ہریرہ ہو نے اس کے ثبوت میں اسی آیت کو پڑھا۔ترکیب فَبِظُلم مِّنَ الذِينَ هَادُوا حَرَّمنا پھر تو ہم نے یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے کتنی ایک پاک چیزیں؟ صیبت أحِلَّتْ لَهُم وَبِصَل۔وبصل هم عَنْ حرمنا سے متعلق ہے وبصد ہم متعلق ہے۔رمنا سے داخہ ہم اس پر معطوف اور اسی طرح انہم ۱۶۲ اور یہ سب مصادر فاعل کی طرف مضاف ہیں الراسخون جوان کو حلال تھی نے حرام کر دیں اور اس سے بھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی سبيل اللهِ كَثِيرًا وَآخَذِهِم راہ سے بہت کچھ رکھتے تھے۔اور ان کی شود۔و مبتدا فی العلم اس سے متعلق مہم الراسخون سے حال والمؤمنون معطوف ہے الراسخون پر اور خبر اس کی یہ دلیل ہے کہ حضرت مسیح زندہ ہیں اور قرب قیامت جلال و شوکت یومنون ہے وقبل سنور تہم - والمقیمین منصوب علے سے تشریف لائیں گے اور ان کے آنے کا انکار کیا جائے اور موت ثابت کی جائے تو المرح ہے اسی اعنی المقيمين وقيل انه معطوف على ما وفيرا فيه اس تقدیر پر آیت کی تکذیب لازم آتی ہے کیس لئے کہ اہل کتاب میں سے یہودی ایک والمؤتون معطوف علیہ المؤمنون معطوف پھر یہ بھی حضرت مسیح پر ایمان نہیں لاتے چہ جائیکہ ان کی زندگی میں جو تمام ہو چکی ۱۲ جاتا ہے اس کو مٹادیں گے اور دین الہی جو اسلام ہے اس کو قائم کریں گے اور یہ نہ صلیب توڑنے اور خنزیر قتل کرنے سے یہ عرض ہے کہ دین نصرانی جس میں موقوف کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس وقت دین حق ہر ایک کو قبول کرنا صلیب پوجی جاتی ہے۔چنانچہ رومن کیتھلک ایت تک پوجتے ہیں اور سٹور کھایا پڑے گا ۱۲ منہ