قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1354 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1354

۹۳۴ 1354 of 1460 یوناه ۸:۲ 934 Λ ۹ تیرے حضور میں پہنچی۔جولوگ جھوٹے معبودوں سے لیٹے رہتے ہیں وہ اس کی شفقت سے محروم رہ جاتے ہیں جو اُن پر ہوتی۔لیکن میں تیری شکر گزاری کا گیت گاتے ہوئے، تیرے حضور میں قربانی گذرانوں گا۔میں نے جو منت مانگی اُسے پورا کروں گا۔نجات خدا کی طرف سے آتی ہے۔اگل دیا۔جب خدا نے ان کا یہ عمل دیکھا کہ وہ اپنی بُری روش سے پھر گئے تو اسے ترس آیا اور اس غضب کو جو وہ ان کے اوپر لانے کو تھا نازل نہ کیا۔خدا کی رحمت پر یوناہ کا حصہ لیکن یوناہ اس بات سے بہت ناخوش اور ناراض ہوا۔اس نے خدا سے دعا کی کہ اے خدا جب میں اپنے گھر پر تھا تو کیا میں نے یہی نہیں کہا تھا ؟ اس لیے میں نے ترسیس کو بھاگنے میں جلدی کی تھی۔میں جانتا تھا کہ تو شفقت اور ترس کھانے والا خدا ہے۔قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں بڑھ کر ہے۔تو ایسا خدا ہے جو عذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔ا اور خدا نے مچھلی کو حکم دیا اور اس نے یوناہ کو خشک زمین پر اب اے خدا تو میری جان لے لے کیونکہ اس جینے سے مرجانا ہوں اس کی منادی کر۔بہتر ہے۔یوناہ میوہ جاتا ہے خدا نے فرمایا، کیا تجھے غصہ کرنے کا کوئی حق ہے؟ تب خدا کا کلام دوسری بار یوناہ پر نازل ہوا۔“ کہ اور یوناہ شہر سے باہر مشرق کی طرف جا بیٹھا۔وہاں اپنے اُٹھے ، اس بڑے شہر نینوں کو جا اور جو پیغام میں تجھے دیتا لیے ایک چھپر بنا کر اس کے سایہ میں بیٹھا اور دیکھنے لگا کہ شہر کا کیا حال ہوتا ہے۔تب خداوند خدا نے ایک بیل اُگائی اور اُسے یوناہ خدا کے کلام کے مطابق نیوہ کو گیا۔نینوہ بہت اہم شہر یوناہ کے اوپر پھیلایا تا کہ اس کے سر پر سایہ ہو اور وہ تکلیف سے نیوہ تھا۔وہاں پہنچنے کے لیے تین دن لگتے تھے۔پہلے روز جب یوناہ بچے اور آرام پائے۔اور یوناہ اس بیل سے بہت خوش ہوا۔نینوہ میں داخل ہونے کے لیے روانہ ہوا تو اس نے منادی کی کہ لیکن دوسرے دن صبح سویرے خدا نے ایک کیڑا بھیجا جس نے ے چالیس دن کے بعد نیوہ برباد کیا جائے گا۔نینوں کے باشندے بیل کو کاٹ ڈالا اور وہ سوکھ گئی۔جب سورج نکلا تو خدا نے مشرق خدا پر ایمان رکھتے تھے۔انہوں نے روزہ رکھنے کا اعلان کیا اور سے ایک جلانے والی ٹو چلائی اور یہ ناہ کے سر پر سورج کی تپش بڑے سے چھوٹے تک سب نے ٹاٹ اوڑھا۔جب نینوں کے ہوئی بلکہ وہ بے ہوش ہو گیا اور مرنے کی آرزو کرنے لگا۔وہ بولا بادشاہ کو یہ خبر پہنچی تو وہ اپنے تخت سے اُٹھا، اپنا شاہی لباس اُتارا اور میرے اس جینے سے مرجانا بہتر ہوتا۔ٹاٹ اوڑھ کر خاک پر بیٹھ گیا۔اور نیوہ میں اعلان کر دیا کہ خدا نے یوناہ سے کہا: کیا تجھے اس بیل کے لیے ناراض ہونے کا کوئی حق ہے؟ بادشاہ اور اس کے سرداروں کی طرف سے حکم ہوا ہے کہ اس نے کہا، ہاں، میں اتنا ناراض ہوں کہ مرنا چاہتا ہوں۔خدا نے کہا، تجھے اس بیل کا اتنا خیال ہے جسے نہ تو نے کوئی انسان یا حیوان، گلہ اور مویشی نہ کچھ کھائے اور نہ لگایا نہ اس کے لیے کچھ محنت کی۔یہ رات بھر میں اُگی اور رات بھر بلکہ ہر انسان اور حیوان ٹاٹ اوڑھے اور فوراً خدا کو میں سوکھ گئی۔لیکن نینوں میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ لوگ پکارے۔ہر ہر شخص اپنی بُری روش اور ظلم سے باز آئے۔کون ہیں جو اپنے داہنے اور بائیں ہاتھ میں فرق نہیں کر سکتے۔اسی طرح ہے۔جانتا ہے کہ خدا کو ترس آئے اور وہ اپنے سخت قہر سے باز آئے بہت سے مویشی ہیں۔تو کیا میں اتنے بڑے شہر کے لیے فکر نہ اور ہم ہلاک نہ ہوں۔کروں۔